کمبوڈیا: 100سے زائد بارودی سرنگوں کی کھوج لگانے والا چوہا مرگیا  

کمبوڈیا کی حکومت نے ’’مگاوا‘‘ نامی چوہے کو سرکاری اعزازات کے ساتھ سپردخاکر دیا ہے

جانوروں کی فلاح کی برطانوی تنظیم نے کمبوڈیا میں جان لیوا بارودی سرنگوں کی کامیاب نشاندہی  کرنے پر چوہے کو سونے کے تمغے سے نوازا تھا جس نے 100 سے زائد بارودی سرنگوں کی کھوج لگاکر سیکڑوں انسانی جانوں کو بچایا تھا۔

غیر ملکی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق   کمبوڈیا کی حکومت نے ’’مگاوا‘‘ نامی چوہے کو سرکاری اعزازات کے ساتھ سپردخاکر دیا ہے ، ’’مگاوا‘‘ نے اپنی آٹھ سالہ زندگی  میں 100 سے زائد بارودی سرنگوں کا کامیابی سے کھوج لگایا جس کے بعد سیکڑوں زندگیوں کو تحفظ نصیب ہوا۔

یہ بھی پڑھیے

پشاور تا طورخم تباہ حال سفاری ریلوے ٹریک حکومتی توجہ کا منتظر

تیزی سے تباہ ہوتے ہوئے کوئٹہ کے پہاڑ

’’مگاوا‘‘ کی غیر معمولی خدمات کے اعتراف نے  جانوروں کی فلاح کیلئے کام کرنے والی برطانوی تنظیم پی ڈی ایس  نے اس کو سونے کے تمغے سے نوازا تھا ، ’’مگاوا‘‘ کے علاوہ دیگر تیس جانوروں کو  انعامات دیئے گئے تاہم پہلا انعام  اس چوہے کو دیا گیا جس کی کارکردگی غیر معمولی تھی ۔

’’مگاوا‘‘کو بارودی سر نگوں کی کھوج  کی تربیت  تنزانیہ میں بیلجیئم کی ایک فلاحی تنظیم اپوپو نے کی تھی، ایک سال تک جاری رہنے والی اس تربیت کے بعد یہ چوہا اپنے کام میں اتنا ماہر  ہوگیا تھا کہ یہ ٹی بی جیسے مرض کی  بھی شناخت کرسکتا تھا ۔

واضح رہے کہ کئی دہائیوں کی خانہ جنگی کا شکار، کمبوڈیا دنیا کے سب سے زیادہ بارودی سرنگوں والے ممالک میں سے ایک ہے، جہاں 1,000 مربع کلومیٹر (386 مربع میل) سے زیادہ زمین میں اب بھی خطرناک بارودی سرنگیں موجود ہیں اور سالانہ سیکڑوں افراد ان بارودی سرنگوں کے پھٹنے کے نتیجےمیں ہلاک ہوجاتے ہیں۔

Facebook Comments Box