میاں صاحب پاکستان آئے تو زہر دیا جاسکتا ہے، حسین نوازکا الزام

حسین نواز کی باتوں سے تاثر ملتا ہے کہ نوازشریف صحت کے مسائل کے باعث نہیں بلکہ جان کے خطرے کی وجہ سے ملک واپس نہیں آرہے ہیں۔

نوازشریف کے صاحبزادے حسین نواز نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں انکشاف کیا ہے کہ نوازشریف کو پاکستان میں جان سے مارنے کی کوشش کی گئی، ان کے پلیٹ لٹس اتنی تیزی سے گرے کے انکا سنبھلنا بہت مشکل ہوگیا تھا ، کسی نے اس بات کی تحقیقات نہیں کرائیں کہ  یہ سب کیسے ہوا تھا۔

نجی ٹی وی کے پروگرام "آج رات شاہزیب خانزادہ کے ساتھ”  میں سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ ن کے قائد  میاں محمد نوازشریف  کے صاحبزادے  حسین نواز  نے کہا ہے کہ میڈیا پر چلنے والی  ویڈیو جس میں نوازشریف کو ایک فیکٹری کا دورہ کرتے ہوئے دکھایا جارہا ہے پانچ سے چھ ماہ پرانی ہے  لیکن پاکستان میڈیاپر اس کو نئی ویڈیو بتایا جارہا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

 نوازشریف کس چیز کے اہل ہوگئے؟اداکار ہارون شاہد نے بتادیا

آصف زرداری کا نوازشریف سے متعلق بیان افسوسناک ہے ، شہبازشریف

حسین نواز کے جواب پر پروگرام میزبان شاہزیب خانزادہ نے سوال کیا کہ   نوازشریف لندن سے پانچ گھنٹے کا سفر طے کر کے تقریبا 200 کلو میٹر دور فیکٹری  پہنچے اور فیکٹری کادورہ  کیا  تو پھر پاکستان آنے میں کیا دشواری ہے پاکستان کیوں نہیں آسکتے؟اب حالت تشویشناک نہیں  ہیں توعدالت کو دئیےبیان حلفی کی پاسداری کیوں نہیں کرتے؟میاں صاحب عالمی وبا کورونا وائرس سے قبل  نومبر2019میں لندن گئے اسکے بعد لاکھوں سرجریز ہوئیں مگر نواز شریف نےکیوں نہیں کرائی؟۔

میزبان کے تفصیل سے پوچھے گے سوال کے جواب میں حسین نواز نے تہلکہ خیز انکشاف کردیا ، انھوں نے میزبان کے سوال کے جواب میں  بتایا کہ  پاکستان میں میاں صاحب کو جس قسم کے حالات کا سامنا تھا  کیا ان کو ان حالات میں دوبارہ پاکستان بھیج دیا جائے؟۔

انھوں نے کہا کہ  جس طرح  ان کے پلیٹ لٹس  تیزی سے گرے تھے کیا اس کی تحقیقات کی گئیں ؟ انھوں نے بتایا کہ  پاکستانی ڈاکٹرز نے نوازشریف کے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان سے نام نا ظاہر کرنے کی شرط پر کہا کہ آپ میاں صاحب کو یہاں نہیں رہنے دیں کیونکہ حکومت ان  پر ناجائز دباؤ ڈال رہی ہے ، انھوں نے کہا کہ یہی کچھ ان ڈاکٹرز نے اپنی میڈیکل رپورٹس میں بھی لکھا ہے ۔’

متعلقہ تحاریر