پروگرام جی فار غریدہ میں ذومعنی گفتگو پر نیوز ون کوپیمرا کا شوکاز جاری

پینل میں شریک مہمانوں نے وزیراعظم اور وفاقی وزیر مراد سعید کے حوالے سے ذومعنی گفتگوکی،غریدہ فاروقی نے کوئی مداخلت نہیں کی،سینئر صحافیوں کی پروگرام میں نشر کردہ گفتگو کی مذمت،غریدہ فاروقی کو ٹرولنگ کا سامنا

پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) نے پروگرام جی فار غریدہ میں وزیراعظم عمران خان اور  وفاقی وزیر مراد سعید کے حوالے سے ذومعنی گفتگو نشر کرنے پر اظہار وجوہ کا نوٹس جاری کردیا۔

ملک کے مختلف شہروں سے کیبل آپریٹرز کی جانب سے نیوز ون کی نشریات  بند کیے جانے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔سینئر صحافیوں مبشر زیدی اور مظہر عباس نے پروگرام میں کی جانے والی گفتگو کو صحافتی اقدار کے منافی قرار دیدیا۔حکومتی جماعت کے حامیوں کی جانب سے ٹوئٹر پر اینکرپرسن غریدہ فاروقی کی ٹرولنگ کا سلسلہ بھی  جاری ہے۔ہیش ٹیگ جی فار گھٹیا ٹوئٹر پر ٹاپ ٹرینڈ بن گیا۔

یہ بھی پڑھیے

غریدہ فاروقی کے اندر چھپا تعصب باہر نکل آیا

مفتی منیب الرحمان نے غریدہ فاروقی کا کہا غلط ثابت کردیا

پیمرا کی جانب سے چینل کو بھیجے گئے نوٹس میں کہا گیا ہے کہ 10 فروری کو اینکر غریدہ فاروقی کے پروگرام میں مہمانوں نے تضحیک آمیز گفتگو کی اور اس پر کوئی ادارتی چیک نہیں رکھا گیا۔

نوٹس میں پروگرام میں نشر کی جانے والی گفتگو کا بھی حوالہ دیا گیا ہے۔

اینکر غریدہ فاروقی نے پروگرام میں سوال کیا کہ لیکن اس کے باوجود وزیراعظم صاحب مطمئن ہیں، ڻاپ پر نمبر 1 پر مراد سعید صاحب ہیں وجہ کیا ہے؟

مہمان محسن بیگ نے جواب میں کہا کہ اس کا پتا نہیں وه ریحام خان کی کتاب میں لکھا ہوا ہے۔ پتا نہیں کس لیے مطمئن ہوں۔

دوسرے مہمان نیوز ون کے ڈائریکٹر نیوز طارق محمود نے اس سوال پر کہا کہ مراد سعید کی جو کارکردگی ہے اور جو اس پر الزامات ہیں وه کس کے علم میں نہیں۔ اس میں دو ہی لوگ سیریس ہیں ایک عمران خان صاحب اور دوسرے مراد سعید صاحب۔ تو ہمیں اتنا سیریس نہیں ہونا چاہیے۔ ایک نے تقریب منعقد  کی اور دوسرے پہلے نمبر پر آئے ہیں۔

طارق محمود نے مزید کہا کہ بعض چیزیں خود وضاحتی ہوتی ہیں اور وه پیمرا کی خاص نظر ہوگی۔ بعض چیزیں نہ بلوائیں ۔ انہوں نے ایک کتاب کا بھی ذکر کر دیا ہے، وه بڑے محنتی وزیر ہیں۔ دوسرا یہ کہ وه اس میں کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے کہ عمران خان صاحب اُن کو بہت پسند کرتے ہیں۔

طارق محمود  نےمزیدکہا کہ وه بڑے محنتی وزیر ہیں اور وه بہت قریب ترین آدمی ہیں عمران خان صاحب کے اور ایک مرتبہ پھر اُنہوں نے ثابت کیا ہے کہ اُنہوں نے اپنی کارکردگی میں سب کو پیچھے چھوڑ دیا ہے اس سے آگے آپ کیا کہلوانا چاہتی ہیں۔

پیمرا کی جانب سے اظہار وجوہ کا نوٹس جاری ہونے کے بعد نیوز ون کے ڈائریکٹر نیوز طارق محمود نے اپنے ٹوئٹ میں دعویٰ کیا کہ نیوز ون ٹی وی کی نشریات بند کروانے کیلئے کیبل آپریٹرز کو فون ۔ملک بھر میں پیمرا حکام سرگرم ہوگئے۔

دوسری جانب پروگرام جی فار غریدہ میں وزیراعظم اور وفاقی وزیر کے حوالے سے  قابل اعتراض گفتگو نشر کیےجانے پر سینئر صحافیوں  کی جانب سے مذمتی بیانات جاری کیے جانے کاسلسلہ جاری ہے۔

سینئر صحافی مبشر زیدی نے اپنے ٹوئٹ میں لکھا کہ اس قسم کی عامیانہ گفتگو کو صحافت کا درجہ نہیں دیا جاسکتا۔

سینئر صحافی مظہر عباس  نے مبشری زیدی کے ٹوئٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ اب وقت آگیا ہے کہ پاکستان میں صحافت کے زوال پر نظرثانی کی جائے۔

جی ٹی وی کی اینکر پرسن تنزیلہ مظہر نے لکھا کہ بعض اوقات مہمان  ایسے عامیانہ تبصرے کرتے ہیں۔ مگر اینکرز اانہیں روک  سکتے ہیں یا کم از کم سوشل میڈیا پر ان تبصروں کو شیئر کرنے سے گریز کر سکتے ہیں۔ صحافت کہیں زیادہ سنجیدہ کاروبار ہے۔

اے آر وائی نیوز کے پروگرام سرعام کے میزبان اقرار الحسن نے  اپنےٹوئٹ میں لکھا کہ مراد سعید سے متعلق یہ ذومعنی گفتگو انتہائی قابل مذمت ہے۔ آپ کسی وزیر کی وزارت کی کارکردگی کی بنیاد پر ضرور تنقید کا نشانہ بنائیے لیکن یہ طرزِ عمل ذاتی عناد سا لگتا ہے۔ میری رائے ہے کہ مراد سعید کی وزارت نے ماضی کی حکومتوں کی نسبت واقعی اچھا پرفارم کیا ہے، انہیں سراہنا چاہیے۔

اداکار اور میزبان شفاعت علی نے لکھا کہ  افسوس ہوا کہ مراد سعید کے حوالے سے ایسی گفتگو۔ اتنے بڑے ناموں سے اتنی چھوٹی باتوں کی امید نہ تھی۔

 سینئر صحافیوں نعمت خان اور وسیم عباسی نے بھی پروگرام میں نشر کی جانے والی گفتگو کو قابل مذمت قرار دیا۔

وفاقی وزرااسدعمر،شاہ محمود قریشی اور معاون خصوصی شہباز گل نے بھی پروگرام میں کی جانے والی گفتگو کو گھٹیا قرار  دیتے ہوئے اس کی شدید مذمت کی ۔

 

ادھر پروگرام کا کلپ وائرل ہوتے ہیں تحریک انصاف کے حامی ٹوئٹر پر سرگرم ہوگئے اور ہیش ٹیگ جی فار گھٹیا ٹوئٹر پر ٹاپ ٹرینڈ بن گیا۔تحریک انصاف کے آفیشل ٹوئٹر ہینڈل سے بھی اس حوالے سے مذمتی پوسٹ شیئر کی گئی۔

غریدہ فاروقی کے ناقدین ان کے ماضی کے قصے میں ڈھونڈ کر نکال لائے اور غریدہ فاروقی کی اپنی ملازمہ سے بدتمیزی کی آڈیو ٹیپ بھی وائرل کردی۔

ٹوئٹر پر غریدہ فاروقی کی ٹرولنگ کے بعد ان کے حق میں بھی آوازیں اٹھنا شروع ہوگئی ہیں۔اینکرپرسن اقرار الحسن نے غریدہ فاروقی  کے ساتھ کیے گئے سلوک کو بھی قابل مذمت قرار دیا۔

متعلقہ تحاریر