پروگرام جی فار غریدہ میں ذومعنی گفتگو پر نیوز ون کوپیمرا کا شوکاز جاری
پینل میں شریک مہمانوں نے وزیراعظم اور وفاقی وزیر مراد سعید کے حوالے سے ذومعنی گفتگوکی،غریدہ فاروقی نے کوئی مداخلت نہیں کی،سینئر صحافیوں کی پروگرام میں نشر کردہ گفتگو کی مذمت،غریدہ فاروقی کو ٹرولنگ کا سامنا

پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) نے پروگرام جی فار غریدہ میں وزیراعظم عمران خان اور وفاقی وزیر مراد سعید کے حوالے سے ذومعنی گفتگو نشر کرنے پر اظہار وجوہ کا نوٹس جاری کردیا۔
ملک کے مختلف شہروں سے کیبل آپریٹرز کی جانب سے نیوز ون کی نشریات بند کیے جانے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔سینئر صحافیوں مبشر زیدی اور مظہر عباس نے پروگرام میں کی جانے والی گفتگو کو صحافتی اقدار کے منافی قرار دیدیا۔حکومتی جماعت کے حامیوں کی جانب سے ٹوئٹر پر اینکرپرسن غریدہ فاروقی کی ٹرولنگ کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ہیش ٹیگ جی فار گھٹیا ٹوئٹر پر ٹاپ ٹرینڈ بن گیا۔
یہ بھی پڑھیے
غریدہ فاروقی کے اندر چھپا تعصب باہر نکل آیا
مفتی منیب الرحمان نے غریدہ فاروقی کا کہا غلط ثابت کردیا
پیمرا کی جانب سے چینل کو بھیجے گئے نوٹس میں کہا گیا ہے کہ 10 فروری کو اینکر غریدہ فاروقی کے پروگرام میں مہمانوں نے تضحیک آمیز گفتگو کی اور اس پر کوئی ادارتی چیک نہیں رکھا گیا۔
It’s not just the notice, someone is ILLEGALLY shutting down News One channel across the country. https://t.co/l1w29LvkBR
— Gharidah Farooqi (@GFarooqi) February 11, 2022
نوٹس میں پروگرام میں نشر کی جانے والی گفتگو کا بھی حوالہ دیا گیا ہے۔
مرادسعید کی جس کارکردگی پر پہلانمبر ملا ہے وہ ریحام کی کتاب میں ہے؛ محسن بیگ
مرادسعید نےکارکردگی میں سب کو پیچھےچھوڑدیا مزید نہ پوچھیں پیمرا موجود ہے؛طارق محمود
مرادسعید کی کارکردگی کےالزامات سب کےسامنےموجود ہیں؛افتخاراحمد
میں مرادسعید کی کارکردگی بارے اتفاق کرتاہوں؛ جنرل امجد pic.twitter.com/TzGv09EZeN— Gharidah Farooqi (@GFarooqi) February 11, 2022
اینکر غریدہ فاروقی نے پروگرام میں سوال کیا کہ لیکن اس کے باوجود وزیراعظم صاحب مطمئن ہیں، ڻاپ پر نمبر 1 پر مراد سعید صاحب ہیں وجہ کیا ہے؟
مہمان محسن بیگ نے جواب میں کہا کہ اس کا پتا نہیں وه ریحام خان کی کتاب میں لکھا ہوا ہے۔ پتا نہیں کس لیے مطمئن ہوں۔
دوسرے مہمان نیوز ون کے ڈائریکٹر نیوز طارق محمود نے اس سوال پر کہا کہ مراد سعید کی جو کارکردگی ہے اور جو اس پر الزامات ہیں وه کس کے علم میں نہیں۔ اس میں دو ہی لوگ سیریس ہیں ایک عمران خان صاحب اور دوسرے مراد سعید صاحب۔ تو ہمیں اتنا سیریس نہیں ہونا چاہیے۔ ایک نے تقریب منعقد کی اور دوسرے پہلے نمبر پر آئے ہیں۔
طارق محمود نے مزید کہا کہ بعض چیزیں خود وضاحتی ہوتی ہیں اور وه پیمرا کی خاص نظر ہوگی۔ بعض چیزیں نہ بلوائیں ۔ انہوں نے ایک کتاب کا بھی ذکر کر دیا ہے، وه بڑے محنتی وزیر ہیں۔ دوسرا یہ کہ وه اس میں کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے کہ عمران خان صاحب اُن کو بہت پسند کرتے ہیں۔
طارق محمود نےمزیدکہا کہ وه بڑے محنتی وزیر ہیں اور وه بہت قریب ترین آدمی ہیں عمران خان صاحب کے اور ایک مرتبہ پھر اُنہوں نے ثابت کیا ہے کہ اُنہوں نے اپنی کارکردگی میں سب کو پیچھے چھوڑ دیا ہے اس سے آگے آپ کیا کہلوانا چاہتی ہیں۔
پیمرا کی جانب سے اظہار وجوہ کا نوٹس جاری ہونے کے بعد نیوز ون کے ڈائریکٹر نیوز طارق محمود نے اپنے ٹوئٹ میں دعویٰ کیا کہ نیوز ون ٹی وی کی نشریات بند کروانے کیلئے کیبل آپریٹرز کو فون ۔ملک بھر میں پیمرا حکام سرگرم ہوگئے۔
نیوز ون ٹی وی کی نشریات بند کروانے کیلئے کیبل آپریٹرز کو فون ۔ملک بھر میں پیمرا حکام سرگرم
— HafizTariq Mahmood (@Tariqmahmood76) February 11, 2022
دوسری جانب پروگرام جی فار غریدہ میں وزیراعظم اور وفاقی وزیر کے حوالے سے قابل اعتراض گفتگو نشر کیےجانے پر سینئر صحافیوں کی جانب سے مذمتی بیانات جاری کیے جانے کاسلسلہ جاری ہے۔
سینئر صحافی مبشر زیدی نے اپنے ٹوئٹ میں لکھا کہ اس قسم کی عامیانہ گفتگو کو صحافت کا درجہ نہیں دیا جاسکتا۔
This kind of loose talk can never be classified as journalism https://t.co/gxiSQnpTUU
— Mubashir Zaidi (@Xadeejournalist) February 11, 2022
سینئر صحافی مظہر عباس نے مبشری زیدی کے ٹوئٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ اب وقت آگیا ہے کہ پاکستان میں صحافت کے زوال پر نظرثانی کی جائے۔
It is high time to revisit the fall of journalism in Pakistan. https://t.co/rlGsZdS9us
— Mazhar Abbas (@MazharAbbasGEO) February 12, 2022
جی ٹی وی کی اینکر پرسن تنزیلہ مظہر نے لکھا کہ بعض اوقات مہمان ایسے عامیانہ تبصرے کرتے ہیں۔ مگر اینکرز اانہیں روک سکتے ہیں یا کم از کم سوشل میڈیا پر ان تبصروں کو شیئر کرنے سے گریز کر سکتے ہیں۔ صحافت کہیں زیادہ سنجیدہ کاروبار ہے۔
Panelists make such loose comments sometimes. Anchors can ask them to behave or at least can avoid sharing those comments on social media. Journalism is far more serious business. https://t.co/uqaqNyG1NH
— Tanzeela Mazhar (@TenzilaMazhar) February 12, 2022
اے آر وائی نیوز کے پروگرام سرعام کے میزبان اقرار الحسن نے اپنےٹوئٹ میں لکھا کہ مراد سعید سے متعلق یہ ذومعنی گفتگو انتہائی قابل مذمت ہے۔ آپ کسی وزیر کی وزارت کی کارکردگی کی بنیاد پر ضرور تنقید کا نشانہ بنائیے لیکن یہ طرزِ عمل ذاتی عناد سا لگتا ہے۔ میری رائے ہے کہ مراد سعید کی وزارت نے ماضی کی حکومتوں کی نسبت واقعی اچھا پرفارم کیا ہے، انہیں سراہنا چاہیے۔
مراد سعید سے متعلق یہ ذومعنی گفتگو انتہائی قابل مذمت ہے۔ آپ کسی وزیر کی وزارت کی کارکردگی کی بنیاد پر ضرور تنقید کا نشانہ بنائیے لیکن یہ طرزِ عمل ذاتی عناد سا لگتا ہے۔ میری رائے ہے کہ مراد سعید کی وزارت نے ماضی کی حکومتوں کی نسبت واقعی اچھا پرفارم کیا ہے، انہیں سراہنا چاہئیے https://t.co/NRyTWGcyB8
— Iqrar ul Hassan Syed (@iqrarulhassan) February 11, 2022
اداکار اور میزبان شفاعت علی نے لکھا کہ افسوس ہوا کہ مراد سعید کے حوالے سے ایسی گفتگو۔ اتنے بڑے ناموں سے اتنی چھوٹی باتوں کی امید نہ تھی۔
افسوس ہوا کہ مراد سعید کے حوالے سے ایسی گفتگو۔۔۔۔۔ اتنے بڑے ناموں سے اتنی چھوٹی باتوں کی امید نہ تھی
— Shafaat Ali (@iamshafaatali) February 12, 2022
سینئر صحافیوں نعمت خان اور وسیم عباسی نے بھی پروگرام میں نشر کی جانے والی گفتگو کو قابل مذمت قرار دیا۔
قومی ٹی وی پر صحافیوں کا اس طرح مراد سعید کے کردار پر کی بات کرنا قابل مذمت ہے۔ https://t.co/M3odqizIva
— Waseem Abbasi (@Wabbasi007) February 11, 2022
ان سینئر صحافیوں نے تو اس طرح کی گفتگو کرکے اپنا ہی قد چھوٹا کرنے کی کوشش تو کی ہے ایک خاتون اینکر نے بھی اس ویڈیو کو قابل اعتراض گفتگو کے ٹکرز کے ساتھ شیئر کردیا ہے۔
افسوس ناک! https://t.co/e2hiBCgSwg pic.twitter.com/ZUeL6H3gv5— Naimat Khan (@NKMalazai) February 11, 2022
وفاقی وزرااسدعمر،شاہ محمود قریشی اور معاون خصوصی شہباز گل نے بھی پروگرام میں کی جانے والی گفتگو کو گھٹیا قرار دیتے ہوئے اس کی شدید مذمت کی ۔
جس اخلاق سے گری ہوئی مکروہ باتیں مراد سعید کے بارے میں کی گئ، اگر یہ میرے یا کسی صحافی کے بارے میں کسی پروگرام پر کی جائیں تو ہم کیا مطالبہ کرتے؟ مراد سعید تو انشاءاللہ مزید کامیابی حاصل کرے گا، لیکن ہم نے ایسی گندگی کو ٹی وی سے نا روکا تو معاشرے میں تباہی پھیلے گی
— Asad Umar (@Asad_Umar) February 12, 2022
کل ایک نیوز چینل پر اینکر اور شرکاء کی جانب سے انتہائی لغو اور ذومعنی گفتگو کا استعمال شدید قابلِ مذمت ھے۔ یہ کونسی صحافت ھے؟ تنقید آپ کا جائز حق ھے لیکن تنقید کی آڑ میں اخلاقیات سے گرنا انتہائی افسوسناک ہے.
— Shah Mahmood Qureshi (@SMQureshiPTI) February 12, 2022
پی ٹی آئی اور میڈیا کے دوسرے لوگوں کو بولنا چاہئے۔گونگا بہرہ بنے رہنے سے کل یہ لوگ آپکے بدن سے کپڑا اتاریں گے۔ آج مراد کے بارے بکواس کی ہے تو کل یہ آپکے بار کریں گے۔ یہ معاشرے کا گند ہیں۔ یہ وہ گٹر ہیں جو اب ابل رہے ہیں۔مراد کے لئے نہیں بولنا تو اپنے معاشرے کی اقدار کے کئے بولیں
— Dr. Shahbaz GiLL (@SHABAZGIL) February 11, 2022
ادھر پروگرام کا کلپ وائرل ہوتے ہیں تحریک انصاف کے حامی ٹوئٹر پر سرگرم ہوگئے اور ہیش ٹیگ جی فار گھٹیا ٹوئٹر پر ٹاپ ٹرینڈ بن گیا۔تحریک انصاف کے آفیشل ٹوئٹر ہینڈل سے بھی اس حوالے سے مذمتی پوسٹ شیئر کی گئی۔
It had to be! The people of Pakistan are outraged by this Ghatya behavior of not just the anchor but all her guests! Just waiting for freedom of speech and media ethics commentators’ views on the show that is now referred to as #GForGhatya https://t.co/ZCAStAuRsu pic.twitter.com/1dnKHVdzIy
— PTI (@PTIofficial) February 12, 2022
غریدہ فاروقی کے ناقدین ان کے ماضی کے قصے میں ڈھونڈ کر نکال لائے اور غریدہ فاروقی کی اپنی ملازمہ سے بدتمیزی کی آڈیو ٹیپ بھی وائرل کردی۔
This audio reflects the actual #GForGhatya mentality pic.twitter.com/GtO6lG0bzy
— Azhar Mashwani (@MashwaniAzhar) February 11, 2022
ٹوئٹر پر غریدہ فاروقی کی ٹرولنگ کے بعد ان کے حق میں بھی آوازیں اٹھنا شروع ہوگئی ہیں۔اینکرپرسن اقرار الحسن نے غریدہ فاروقی کے ساتھ کیے گئے سلوک کو بھی قابل مذمت قرار دیا۔
وہ سوشل میڈیا اکاؤنٹس جنہوں نے زبیر عمر صاحب کی ویڈیو والی لڑکی کو غریدہ فاروقی ثابت کرنے کی کوشش کی، وہ تنخواہ دار فوکل پرسن جو ایسی کیمپینر لانچ کرتے ہیں، وہ معاونِ خصوصی جنہوں نے کل غریدہ کو خریدہ یعنی خریدی ہوئی لکھا، وہ کس منہ سے مرادسعید والی گفتگو کی مذمت کر رہے ہیں؟؟ https://t.co/LKp9uK9Cbk
— Iqrar ul Hassan Syed (@iqrarulhassan) February 12, 2022









