اپوزیشن پی ٹی آئی حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے میں کنفیوژن کا شکار

اپوزیشن جماعتیں پی ٹی آئی حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے سے ہچکچا رہی ہیں کیونکہ ابھی حتمی تاریخ نہیں دی گئی۔

قومی اسمبلی میں حزب اختلاف کی جماعتیں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے میں بظاہر ہچکچاہٹ کا شکار دکھائی دے رہی ہیں، پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) ، پاکستان مسلم لیگ (ن) ، پاکستان مسلم لیگ (ق) اور پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) سمیت اپوزیشن کی بڑی جماعتوں کی ملاقاتیں جاری ہیں، تاہم ابھی تک تحریک عدم اعتماد کے حوالے سے کوئی حتمی تاریخ نہیں دی گئی ہے۔

گزشتہ روز پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف نے ایک وفد کے ہمراہ بلاول ہاؤس لاہور کا دورہ کیا جہاں انہوں نے آصف علی زرداری، بلاول بھٹو زرداری اور پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنماؤں سے ملاقات کی۔

یہ بھی پڑھیے

نواز شریف نے خیبرپختونخوا میں بھی عمران خان کو مقبولیت میں پچھاڑ دیا

سید خورشید شاہ نے ماحولیاتی آلودگی کو کورونا سے بڑا خطرہ قرار دے دیا

دونوں جانب سے اس بات کا اعادہ کیا گیا کہ حکومت کا بوریا بستر جلد گول کردیا جائے گا۔ بلاول ہاؤس کا دورہ کرنے والے پی ایم ایل این کے وفد میں قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف، احسن اقبال، خواجہ سعد رفیق، مریم اورنگزیب اور رانا ثناء اللہ خان شامل تھے۔

National Assembly Opposition PTI

کیا اپوزیشن اس ماہ تحریک عدم اعتماد لانے میں کامیاب ہوگی؟

ن لیگ اور پی پی کی ملاقات میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کے پارلیمانی لیڈر مولانا اسد محمود، سابق وزرائے اعظم یوسف رضا گیلانی اور راجہ پرویز اشرف، پنجاب کے سابق گورنر مخدوم احمد محمود، رخسانہ بنگش، کے پی کے سابق وزیراعلیٰ اکرم خان درانی نے بھی شرکت کی تھی۔

نیوز 360 کے ذرائع کے مطابق اس موقع پر جے یو آئی (ف) کے مولانا اسد محمود اور اکرم خان درانی نے پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت کو 27 فروری کی بجائے 23 مارچ کو لانگ مارچ کرنے کی تجویز دی ، جسے پی پی قیادت نے مسترد کردیا۔

آصف علی زرداری، شہباز شریف اور مولانا فضل الرحمان کے درمیان آج مسلم لیگ (ن) کے صدر کی ماڈل ٹاؤن رہائش گاہ پر ایک اور ملاقات طے ہے۔

National Assembly Opposition PTI

علاوہ ازیں آصف علی زرداری نے پاکستان مسلم لیگ قائد (پی ایم ایل ق) کے سرکردہ رہنماؤں چوہدری شجاعت حسین اور چوہدری پرویز الٰہی کو بھی لاہور میں اپنی رہائش گاہ پر عشائیہ پر مدعو کر رکھا ہے۔

حزب اختلاف کی جماعتوں کی تیاریاں

حزب اختلاف کی جماعتوں نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی زیرقیادت وفاقی حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کے لیے کوششیں مزید تیز کر دی ہیں جس میں مختلف آپشنز اور حکمت عملی کے حوالے مشاورت اور تبادلے جاری ہیں۔

حزب اختلاف کی جماعتوں نے پارلیمنٹ میں اکثریت ہونے کے باوجود اسمبلیوں سے مستعفی ہونے کے آپشن کو مسترد کر دیا ہے اور پی ٹی آئی حکومت کی اتحادی جماعتوں کی حمایت حاصل کرنے کے لیے کوششیں تیز کردی ہیں۔

دوسری جانب گزشتہ پی پی پی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے بعد پاکستان مسلم لیگ نواز (پی ایم ایل این) کو وزیراعظم نامزد کرنے کا عندیہ دیا تھا۔

انہوں نے یہ اشارہ پشاور میں عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) خیبرپختونخوا (کے پی) کے صدر ایمل ولی خان سے ملاقات کے بعد پریس کانفرنس کے دوران دیا  تھا۔

پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) نے 27 فروری کو اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کی تیاریاں شروع کررکھی ہیں۔

کیا پی ڈی ایم نے ’بنیاد بنانے کے بعد‘ تحریک عدم اعتماد لانے کا اعلان کرے گی؟

گزشتہ روز پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری اور پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے درمیان ملاقات ہوئی تھی جو اس سے قبل پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین کی طبیعت خراب ہونے کے باعث ملتوی کر دی گئی تھی۔

National Assembly Opposition PTI

اطلاعات کے مطابق ملاقات کا کوئی بامعنی نتیجہ نہیں نکلا ، دونوں رہنماؤں نے پی ٹی آئی حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے پر اتفاق کیا ہے۔ آصف علی زرداری نے ملاقات میں مولانا فضل الرحمان سے کہا ہے "آپ بسم اللہ کریں۔”

وفاقی وزیر داخلہ کا بیان

وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید نے موجودہ تحریک عدم اعتماد کی بازگشست پر گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپوزیشن شوق سے تحریک عدم اعتماد لائے ، یہ لوگ ناکام ہوں گے۔ 172 کا نمبر پورا کرنا آسان نہیں۔ حزب اختلاف تحریک عدم اعتماد کی ناکامی کی صورت میں کہے گی فون کال آئی گئی تھی اور کسی کو کورونا ہو گیا تھا۔

تجزیے

تجزیہ کاروں کا خیال تھا کہ اپوزیشن جماعتیں اسمبلیوں سے مستعفی ہونے کا بہترین آپشن ہونے کے باوجود عدم اعتماد کی تحریک پر ابھی تک غیر فیصلہ کن تھیں۔

سیاسی تجزیہ کاروں نے اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے تحریک انصاف کی حکومت کو ہٹانے کے لیے استعفیٰ دینے کا آپشن منتخب کرنے میں تاخیر پر حیرت کا اظہار کیا۔

متعلقہ تحاریر