شوکت خانم اسپتال کوبدنام کرنے پر جنگ گروپ کیخلاف برطانیہ میں ہتک عزت کا کیس

جنگ گروپ نے تحریک انصاف پر شوکت خانم اسپتال کے فنڈز کے سیاسی استعمال کا الزام عائد کیا تھا،عمران خان کینسر اپیل برطانیہ نے جنگ گروپ سے خبرواپس لینے،تردید چھاپنے اور معافی مانگنے کا مطالبہ کردیا۔

 شوکت خانم کینسر اسپتال کو بدنام کرنے پر جنگ گروپ کیخلاف برطانیہ میں ہتک عزت کا کیس دائر کردیا گیا۔

جنگ گروپ نے تحریک انصاف پر شوکت خانم اسپتال کے فنڈز کے سیاسی استعمال کا الزام عائد کیا تھا،عمران خان کینسر اپیل برطانیہ نے جنگ گروپ سے خبرواپس لینے،تردید چھاپنے اور معافی مانگنے کا مطالبہ کردیا۔

یہ بھی پڑھیے۔

شوکت خانم کے فنڈز کےغلط استعمال کاالزام،تحریک انصاف کیوں خاموش؟

جنگ گروپ کے ملازمین کا مالک کی حمایت کے بعد مخالفت میں احتجاج

برطانیہ و یورپ میں وزیراعظم عمران خان کے  ترجمان برائے  تجارت و سرمایہ کاری صاحبزادہ جہانگیر نے   بتایا ہے کہ عمران خان کینسر اپیل برطانیہ نے شوکت خانم میموریل کینسر اسپتال کو بدنام کرنے پر جنگ گروپ کے خلاف برطانیہ میں ہتک عزت  کا مقدمہ دائر کردیا ہے ۔

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما نے جنگ گروپ کو بھیجے گئے قانونی نوٹس کی کاپی بھی شیئر کی۔

صاحبزادہ جہانگیر نے ٹویٹر پیغام میں لکھا  کہ جنگ گروپ کو شوکت خانم ہسپتال سے متعلق اپنے آرٹیکل پر شرم آنی چاہیے اور اب عمران خان کینسر اپیل یو کے نے مقدمہ دائر کر دیا ہے۔ ایک ادارہ جو عالمی سطح پر اپنے اعلیٰ معیار اور شفافیت کے لیے پہچانا جاتا ہے۔جو  امیر اور غریب کے علاج میں کوئی فرق نہیں کرتا اس پر اس طرح کے بے ہودہ مضامین کئی جانوں کے نقصان کا سبب بن سکتے ہیں ۔

جنگ گروپ کو روالپنڈی  کے پتے پر ارسال کردہ قانونی نوٹس میں کہا گیا ہے کہ آرٹیکل کے ذریعے میڈیا گروپ نے الزام لگایا تھا کہ”شوکت خانم میموریل ٹرسٹ اور شوکت خانم میموریل کینسر اسپتال اور ریسرچ سینٹر کو خیراتی عطیات دینے والے متعدد عطیہ دہندگان نے ان عطیات کے استعمال کے حوالے سے خدشات کا اظہار کیا ہے، تشویش یہ ہے کہ عطیات پاکستان تحریک انصاف  کی سیاسی سرگرمیوں میں استعمال کیے گئے ہیں ۔

قانونی نوٹس میں جنگ گروپ سے آرٹیکل  واپس لینے ،معافی مانگنے کے علاوہ اس کی ہتک آمیز نوعیت کا اعتراف کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔نوٹس میں کہا گیا ہے کہ میڈیا گروپ نہ صرف اپنی خبر واپس لے بلکہ اس کی تردید اور معافی نامہ بھی  اسی انداز میں شائع کرے جس طرح خبر شائع کی ہے۔

PTI-SKMCH, شوکت خانم اسپتال

جنگ گروپ کے انگریزی روزنامے دی نیوز میں شائع ہونے والی فخر درانی کی خبر  کے مطابق  تحریک انصاف  نے الیکشن کمیشن کی اسکروٹنی کمیٹی  میں پارٹی فنڈز میں  4لاکھ 60ہزار ڈالر دینے والے  ڈونرز کی فہرست پیش کی ہے۔البتہ فنڈز دینے والے 35 فیصد  افراد نے دی نیوز کو بتایا کہ  انہوں نے تحریک انصاف کو کوئی فنڈ نہیں دیا ، ان کی امداد  شوکت خانم اسپتال کیلیے تھی جبکہ 27 فیصد افراد نے اعتراف کیا کہ ان کےفنڈز تحریک انصاف کیلیے تھے۔

وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا  تھا کہ شوکت خانم اسپتال کے فنڈز کا سیاسی مقاصد کیلیے استعمال ناممکن ہے۔انہوں نے کہا تھا کہ عطیہ کنندگان  کی طرف سے ایل ڈی سی پر دستخط کیے جاتے ہیں تو عطیہ کا مقصد چیک پر درج ہوتا ہے۔ ہزار ڈالر یا اس سے زیادہ کے عطیات بذریعہ چیک دیے گئے ہوں گے،اس کی تصدیق ان چیکوں سے کی جا سکتی ہے ۔ خبر کے مطابق پی ٹی آئی کے سابق چیف آرگنائزر سیف اللہ خان نیازی نے تبصرہ کرنے سے انکار کردیا تھا۔

PTI-foreign-funding-SKMCH, شوکت خانم

 

شوکت خانم  میموریل کینسر اسپتال اور ریسرچ سینٹر نے اسپتال کے فنڈز کی دیگر مقاصد کیلیے استعمال کے الزامات کو سختی سے مسترد کردیا ہے۔اسپتال نے ایک بیان میں ہے کہا ہے کہ  شوکت خانم کو موصول ہونے والے تمام عطیات کا  ریکارڈ رکھا جاتا ہے جبکہ عطیہ کنندگان کوقابل شناخت رسیدیں بھی جاری کی جاتی ہیں ۔ پاکستان اور بیرون ملک ہمارے تمام مالیاتی ریکارڈز کا آزاد فریقین کے ذریعے آڈٹ کیا جاتا ہے تاکہ تمام قابل اطلاق مقامی ضوابط کی تعمیل کو یقینی بنایا جا سکے۔

PTI-SKMCH, شوکت خانم اسپتال
PTI-SKMCH, شوکت خانم اسپتال

بیان میں کہا گیا ہے کہ ہم اپنے عطیہ دہندگان کی سخاوت کی بدولت کینسر کے 75 فیصد سے زیادہ مریضوں کا مکمل طور پر مفت علاج کرتے ہیں۔ شوکت خانم کو موصول ہونے والے تمام عطیات  صرف کینسر کے علاج کے مشن کو پورا کرنے میں  استعمال ہوتے ہیں۔

اسپتال انتظامیہ نے خبردار کیا ہے کہ شوکت خانم کو بدنام کرنے کی کسی بھی کوشش، یا عطیہ کنندگان کے ذہنوں میں شکوک و شبہات پیدا کرنا مریضوں کی زندگیوں سے کھیلنے کے مترادف ہے۔ تاہم پی ٹی آئی نےشوکت خانم کے عطیات کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کے حوالے سے عائد کردہ سنگین الزامات پر مکمل خاموشی اختیار کرلی تھی۔

متعلقہ تحاریر