تحریک عدم اعتماد: مسلم لیگ (ق) نے حزب اختلاف کو اپنے پتے دکھا دیئے

ذرائع نے نیوز 360 کو بتایا ہے کہ مسلم لیگ ق نے اپوزیشن جماعتوں کو تحریک عدم اعتماد کی حمایت کے عوض وزیراعلیٰ پنجاب کا عہدہ مانگ لیا۔

مرکز اور پنجاب میں حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی اتحادی جماعت پاکستان مسلم لیگ ق (پی ایم ایل-ق) نے حزب اختلاف کی جماعتوں کو اپنے ترپ کے شو کر دیئے ہیں ، جس کے بعد حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کی کوششوں میں تیزی آگئی ہے۔

مسلم لیگ (ق) کی اعلیٰ قیادت نے حزب اختلاف کی جماعتوں کو اپنی اہمیت سے باور کرا دیا ہے ، جو حکومت کے خلاف عدم اعتماد کی حکمت عملی کو حتمی شکل دینے کے قریب ہے۔

یہ بھی پڑھیے

سینیٹر شیری رحمان کا آپریشن ردالفساد کے شہداء کو سلام

نواز شریف نے خیبرپختونخوا میں بھی عمران خان کو مقبولیت میں پچھاڑ دیا

واضح رہے کہ چوہدری پرویز الٰہی کی قیادت میں مسلم لیگ (ق) کے اعلیٰ سطح وفد نے گذشتہ روز یعنی بدھ کو بلاول ہاؤس لاہور میں پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری سے ملاقات کی تھی۔

مشاورتی کمیٹی کی تشکیل

قائدین نے تفصیلی مشاورت کے ایک مشترکہ کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا۔ حزب اختلاف کی جماعتوں نے مرکز میں حکمراں جماعت کو بڑا دھچکا دینے کے پہلے مرحلے میں اسپیکر قومی اسمبلی (این اے) کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کا فیصلہ کیا ، اور اس حوالے سے واضح حکمت عملی مرتب کرنے کےلئے مشترکہ کمیٹی تشکیل دی تھی۔

تحریک عدم اعتماد اور حزب اختلاف کی جماعتوں کے رابطے

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت کو گرانے کے لیے حزب اختلاف کی جماعتوں کے درمیان گذشتہ ایک ماہ سے جاری رابطوں میں مزید تیزی آگئی  ہے۔ منگل کے روز جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے چوہدری برادری کے ساتھ ملاقات کی تھی اور شہباز شریف نے وفد کے ہمراہ بلاول ہاؤس لاہور میں سابق صدر آصف زرداری سے ملاقات کی تھی۔

بدھ کے روز پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے وفد کے ہمراہ پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی اعلیٰ قیادت سے ماڈل ٹاؤن میں بڑی بیٹھک کی۔ ملاقات میں تینوں جانب کے وفود نے شرکت کی۔

حزب اختلاف کی جماعتوں کے سربراہوں نے ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال اور بڑھتی ہوئی مہنگائی پر خصوصی پر تبادلہ خیال کیا۔

قائدین کا کہنا تھا پیٹرول کی بڑھتی قیمتوں کی وجہ سے دیگر اشیائے ضروریہ کی چیزیں مزید مہنگی سے مہنگی ہوتی جارہی ہے جس کا سیدھا سیدھا اثر غریب اور متوسط طبقے کی جیب پر پڑ رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا بڑھتی ہوئی مہنگائی نے تنخواہ دار طبقے کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔

ذرائع نے نیوز 360 کو بتایا کہ مسلم لیگ ق نے اپوزیشن جماعتوں کو تحریک عدم اعتماد کی حمایت کے عوض وزیراعلیٰ پنجاب کا عہدہ مانگ لیا۔

ق لیگ کی مانگ اور ن لیگ کا اختلاف

نیوز 360 کے ذرائع کا کہنا ہے کہ پنجاب کی وزارت اعلیٰ کے بدلے قومی اسمبلی میں حزب اختلاف کی حمایت کرنے پر آصف علی زرداری اور مولانا فضل الرحمان نے مثبت پیش رفت شو کی ہے جبکہ مسلم لیگ ن کی قیادت نے اس سے اختلاف کیا ہے، اور حتمی فیصلے کا اختیار نواز شریف کو دے دیا ہے۔

ذرائع نے مزید بتایا کہ چوہدری برادران اور آصف علی زرداری کے درمیان ہونے والی ملاقات میں مسلم لیگ ق نے 11 ارکان قومی اسمبلی (ایم این اے) کی حمایت حاصل کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا تبصرہ

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر پی ایم ایل (ق) 11 ایم این ایز کی حمایت حاصل ہونے کا دعویٰ کررہی ہے تو یہ گیارہ اراکین پی ٹی آئی اور حزب اختلاف دونوں کے لیے ترپ کے پتے کی حیثیت اختیار کر جائیں گے۔ جبکہ جہانگیر ترین گروپ بھی الگ کھڑا دکھائی دے رہا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے حزب اختلاف اور حکمران جماعت کے لیے ان گیارہ ایم این ایز کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے کیونکہ اپوزیشن کو تحریک عدم اعتماد کی  کامیابی کے لیے کم از کم 10 اراکین کی  حمایت چاہیے ہو گی جو ق لیگ کے دعوے کے مطابق ان کے پاس ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پنجاب میں وزارت اعلیٰ حاصل کرنے کے لیے مسلم لیگ (ق) کی جانب سے عدم اعتماد کے اقدام کی حمایت بھی حکمراں تحریک انصاف کے حق میں جائے گی کیونکہ اس سے اپوزیشن کی عوامی ساکھ کو مزید بے نقاب اور نقصان پہنچے گا۔

متعلقہ تحاریر