ن لیگ نے پھردیر کردی،ق لیگ تحریک عدم اعتمادکی حمایت سے پیچھے ہٹ گئی

مسلم لیگ ق نے وزیراعظم عمران خان کیخلاف تحریک عدم اعتماد کی حمایت کے بدلے پنجاب میں وزارت اعلیٰ مانگی تھی۔ میاں نوازشریف کی جانب سے تاحال کوئی جواب نہیں دیا گیا

مسلم لیگ ن کے قائد میاں  نوازشریف نے فیصلہ سازی میں پھر دیر کردی،  ق لیگ چوہدری پرویز الہٰی کو پنجاب کا وزیراعلیٰ  بنانے کے بدلے میں تحریک عدم اعتماد کی حمایت  کے منصوبے سے پیچھے ہٹ گئی۔

مسلم لیگ ق نے وزیراعظم عمران خان کیخلاف تحریک عدم اعتماد کی حمایت کے بدلے پنجاب میں وزارت اعلیٰ مانگی تھی۔ میاں نوازشریف کی جانب سے تاحال کوئی جواب نہیں دیا گیا۔

یہ بھی پڑھیے

عالمی تناؤ میں روس کا دورہ کرنیوالے عمران خان کیا اپوزیشن سے نمٹ لیں گے؟

اپوزیشن پی ٹی آئی حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے میں کنفیوژن کا شکار

ذرائع نے نیوز360 نئی پیش رفت گزشتہ روز اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر اور ق لیگ سے تعلق رکھنے والے وفاقی وزیر آبی وسائل مونس الٰہی کے درمیان ٹیلی فونک رابطے کے بعد سامنے آئی ہے۔چوہدری مونس الٰہی نے ٹیلی فونک گفتگو میں حکومت کو اپنی پارٹی کی حمایت کا یقین دلایا  تھا اور اپوزیشن رہنماؤں کے ساتھ اپنے  رابطوں کو محض  ”سیاسی بات چیت“ قرار دیا تھا۔ .

چوہدری مونس الٰہی نے ٹویٹر پیغام میں کہا کہ “اسپیکر قومی اسمبلی  اسد قیصر نے مجھے فون کیا اور ہم نے موجودہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔ میں نے ان سے کہا کہ سیاسی بات چیت اور مشاورت جاری ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ کوئی فیصلہ کیا گیا ہے۔ ہم اپنے وعدوں کے پابند ہیں اور ان کا مکمل احترام کریں گے۔

ذرائع کے  مطابق مسلم لیگ ق نے پی ٹی آئی حکومت کے خاتمے کی حمایت کے عوض اپوزیشن جماعتوں سے پنجاب کی وزارت اعلیٰ مانگی تھی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ (ق) اپوزیشن کی دو بڑی جماعتوں پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ ن کے درمیان ہم آہنگی کے فقدان پر ناراض ہے، جس کے باعث اس کیلیے تحریک عدم اعتماد کی تجاویز پر غور کرنا مشکل ہوگیا ہے۔

ذرائع نے نیوز 360 کو بتایا کہ مسلم لیگ (ق) نے اپوزیشن جماعتوں کی تحریک عدم اعتماد کی حمایت کے عوض وزیراعلیٰ پنجاب کا عہدہ مانگا۔ ذرائع نے مزید بتایا کہ مسلم لیگ (ق) نے 11 ارکان قومی اسمبلی (ایم این اے) کی حمایت حاصل کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

متعلقہ تحاریر