اسلام آباد ہائیکورٹ، پیکا آرڈیننس کے خلاف درخواست ناقابل سماعت قرار

مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی پارلیمنٹ میں قرارداد منظور کرکے آرڈیننس کو نامنظور کرسکتی ہیں، عدالت کو غیرضروری معاملات میں شامل نہ کریں، فیصلہ۔

مسلم لیگ (ن) کی جانب سے پیکا آرڈیننس کے خلاف درخواست اسلام آباد ہائیکورٹ نے ناقابل ضمانت قرار دے دی، چیف جسٹس اطہر من اللہ نے تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔

فیصلے میں کہا گیا کہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی نے الیکٹرانک کرائمز کی روک تھام کے قانون کو چیلنج کیا ہے، دونوں سیاسی جماعتوں کی پارلیمنٹ میں نمایاں نمائندگی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

اپوزیشن کا سینیٹ سے واک آؤٹ ، حکومت نے اوگرا ترمیمی بل باآسانی منظور کرالیا

بلاول بھٹو نے 27 فروری کے لانگ مارچ کے پلان کی منظوری دیدی

عدالت کا کہنا تھا کہ سینیٹ یا قومی اسمبلی دونوں کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ قرارداد منظور کرکے متنازع آرڈیننس کو نامنظور کرے۔

یہ آرڈیننس صدر پاکستان نے آئین کے آرٹیکل 89 کے تحت حاصل اختیارات کو بروئے کار لاتے ہوئے جاری کیا ہے۔

عدالت نے کہا کہ سیاسی جماعتوں سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ اپنے تنازعات پارلیمنٹ میں حل کریں، غیر ضروری طور پر ریاستی معاملات میں عدالتوں کو شامل نہ کریں۔

فیصلے میں کہا گیا کہ دونوں درخواست گزار سیاسی جماعتوں کی طرف سے اٹھائے گئے معاملے کو کئی اہم اسٹیک ہولڈرز پہلے ہی چیلنج کرچکے ہیں۔

اسلام آباد ہائیکورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ عدالت آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت اپنے غیر معمولی صوابدیدی دائرہ اختیار کو استعمال کرنے کے لیے مائل نہیں ہے، اس لیے دونوں درخواستیں خارج کی جاتی ہیں۔

متعلقہ تحاریر