برطانیہ بھی اتنا ہی برا ہے جتنا کہ پاکستان، اوون بینیٹ جونز

ڈان اخبار میں برطانوی صحافی نے اپنے کالم میں الطاف حسین اور گوہر خان کے مقدمات کا جائزہ لیا ہے، گوہر خان پکڑے گئے، الطاف حسین بےقصور قرار پائے۔

ڈان اخبار میں آج برطانوی صحافی اوون بینیٹ جونز کا کالم شائع ہوا جس میں انہوں نے لندن میں ہونے والے دو پاکستانی نژاد برطانوی شہریوں کے کیسز سے متعلق جائزہ لیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ دونوں مقدمات کی سماعت کنگسٹن کی کراؤن کورٹ میں ہوئی اور یہ سماعت دو ہفتے جاری رہی۔

پہلے مقدمہ میں 31 سالہ گوہر خان فوج مخالف بلاگر احمد وقاص گورایہ کو قتل کرنے کے منصوبے میں ملوث پائے گئے۔

جیوری کو بتایا گیا کہ گوہر خان نے بہت سے قرضے لیے ہوئے تھے اور جب انہیں وقاص گورایہ کے قتل کیلیے ایک لاکھ پاؤنڈ کی پیشکش ہوئی تو انہوں نے قبول کرلی۔

جس شخص نے گوہر کو اس قتل کرنے کی ہدایت کی اس شخص کے متعلق عدالت کو صرف یہ معلوم ہوسکا کہ یہ کوئی ‘مڈز’ نامی شخص ہے اور پاکستان میں رہ رہا ہے۔

اوون بینیٹ لکھتے ہیں کہ گوہر خان صرف اپنی نااہلی کی وجہ سے پکڑا گیا، وہ سادہ سے سوالات کا جواب نہ دے سکا، اسے نیدرلینڈ میں ایک مقدمے کا سامنا تھا اور وہ وہاں سے بھاگ کر برطانیہ آگیا تھا۔

سرحدی اہلکاروں کو گوہر کا یہ طریقہ مشکوک لگا اور انہوں نے سوچا کہ کہیں یہ جہادی نہ ہو، اسی وجہ سے انہوں نے برطانوی حکام کو اطلاع دی کہ ایک مشتبہ دہشتگرد برطانیہ میں داخل ہورہا ہے۔

جب برطانوی حکام نے اسے گرفتار کیا اور اس کا فون چیک کیا تو انہیں اس سارے منصوبے کا علم ہوا۔

دوسرا مقدمہ ایم کیو ایم لندن کے رہنما الطاف حسین کا تھا جو کہ شہریوں کو دہشتگردی پر اکسانے میں بےقصور پائے گئے۔

دو ہفتوں تک جاری رہنے والا ان کا ٹرائل 2016 میں کی گئی ان کی دو تقاریر پر مبنی تھا جس میں انہوں نے برطانیہ سے براہ راست کراچی میں بات کی تھی۔

ایک تقریر میں الطاف حسین نے کارکنان کو کچھ ٹی وی چینلز کے دفاتر جانے کا کہا جنہیں وہ اپنے مخالف سمجھتے تھے۔

ایک تقریر میں ان کا کہنا تھا کہ دیکھتے ہیں کہ یہ ہمارے کتنے لوگوں کو مارتے ہیں، دیکھتے ہیں یہ ایک دن میں ہمارے کتنے لوگوں کو مار سکتے ہیں تاکہ ہم جہاد شروع کرسکیں۔

گو کہ الطاف حسین کو دہشتگردی کیلیے اکسانے کے الزام سے بری کردیا گیا ہے، حقیقت یہ ہے کہ اس روز کچھ ٹی وی اسٹیشنز پر حملے ہوئے تھے۔

ٹرائل کے دوران جیوری کو بتایا گیا کہ ماضی میں الطاف حسین نے تشدد کا جواب تشدد سے دینے اور مہاجروں کے حقوق کیلیے مکمل جنگ کرنے کی باتیں کہی ہیں۔

لیکن اس مقدمے میں تعصب سے بچنے کیلیے ایم کیو ایم کی ماضی کی بہت سی سرگرمیوں کو جیوری کے سامنے پیش نہیں کیا گیا۔

کچھ جیوری ممبرز الطاف حسین سے عدالتی احاطے کے باہر جا کر ملے، ان کا خیال تھا کہ الطاف حسین کے انسانی حقوق سلب کیے گئے ہیں۔

پہلے مقدمے میں پاکستان میں مقیم شخص نے ایک برطانوی کو نیدرلینڈ میں قتل کرنے کیلیے بھرتی کیا۔ دوسرے مقدمے میں لندن میں بیٹے شخص پر الزام لگا کہ اس نے پاکستان میں پرتشدد حملوں کیلیے اکسایا۔

اگر یہ دونوں معاملات صرف جرائم ہوتے تو ان میں محدود دلچسپی ہوتی لیکن ان دونوں معاملات کے سیاسی عنصر بھی ہیں۔

گوہر خان کے ٹرائل میں، مطلوبہ شخص کو دسمبر 2018 میں ایف بی آئی نے اطلاع دی تھی کہ وہ اور برطانیہ میں رہنے والے کچھ دیگر لبرل کارکن ہٹ لسٹ پر ہیں۔

پاکستان کیلیے سابق برطانوی ہائی کمشنر اور وزیراعظم کے سابق مشیر قومی سلامتی مارک لائل گرینٹ کو ریٹائرمنٹ کے بعد یہ بیان دلوایا گیا کہ اگر برطانیہ میں مقیم صحافیوں پر غیرقانونی دباؤ ہے تو میں قانون نافذ کرنے والے اداروں اور برطانوی حکومت سے توقع کرتا ہوں کہ وہ اس کا نوٹس لیں گے اور قانونی اور سفارتی سطح پر رد عمل دیں گے۔

اس بات کا بھی اشارہ ملتا ہے کہ برطانوی حکام گوہر خان ٹرائل کے ذریعے پاکستان کو کوئی پیغام دینا چاہتے تھے۔

عام طور پر مدد نہ کرنے والی کراؤن پراسیکیوشن سروس غیرمعمولی طور پر صحافیوں کو اس کیس سے متعلق بریفنگ دے رہی تھی جس سے معلوم ہوتا ہے کہ برطانوی حکام اس مقدمے کو پریس میں موضوع بحث بنانا چاہتے تھے۔

لیکن جب بات الطاف حسین کے مقدمہ پر آئی تو کراؤن پراسیکیوش سروس مدد نہ کرنے کی اپنی پرانی روش پر لوٹ گئی اور برطانوی حکام نے کوئی کمنٹ نہیں دیا۔

اس بات کو سمجھنا بڑا آسان ہے، پچھلی دو دہائیوں سے برطانوی حکام نے ایم کیو ایم کے ساتھ سفارتی اور انٹیلیجنس سطح پر رابطے کیے۔

جب بھی پاکستانیوں نے برطانوی پولیس کو ایم کیو ایم کے متعلق شکایت کی، اسے نظرانداز کردیا گیا۔

الطاف حسین کو صرف سیاسی وجوہات کی بنا پر مقدمات کا سامنا کرنا پڑا، وزیراعظم عمران خان نے اپنی ہم منصب تھیریسا مے سے مقدمے کی سماعت شروع کرنے کیلیے کہا تب جا کر ٹرائل شروع ہوا۔

اس بات میں کوئی شک نہیں کہ بہت سے پاکستانی قوم پرست جو کہ مغرب کی اخلاقی برتری کو چیلنج کرنے کا عزم رکھتے ہیں وہ ان دونوں مقدمات کا جائزہ لینے کے بعد اس نتیجے پر پہنچیں گے کہ برطانیہ بھی اتنا ہی برا ہے جتنا کہ پاکستان۔

متعلقہ تحاریر