تحریک عدم اعتماد میں چند دن باقی ، تمام فریق اپنے پتے سینے سے لگائے بیٹھے ہیں

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے تحریک عدم اعتماد اب صرف وزیراعظم عمران خان کا مسئلہ نہیں رہا ہے بلکہ ملک کی تمام سیاسی جماعتوں کا مسئلہ بن گیا ہے، کون کدھر جائے گا کہنا قبل ازوقت ہوگا۔

پاکستان میں سیاسی صورتحال انتہائی تیزی سے تبدیل ہوتی دکھائی دے رہی ، تحریک عدم اعتماد پر قومی اسمبلی میں ووٹنگ میں صرف 8 سے 9 دن باقی ہیں ، صورتحال انتہائی گنجلک ہوتی جارہی ہے ، تمام جماعتیں اپنے اپنے پتے سینے سے لگائے بیٹھی ہیں۔

مسلم لیگ (ق) اور پاکستان تحریک انصاف کے درمیان بظاہر دوریاں بڑھتی ہوئی دکھائی دے رہی ہیں۔ پی ٹی آئی کے اندرونی ذرائع کے مطابق عمران خان نے چوہدری برادران کو بڑا واضح پیغام دیا ہے کہ پنجاب میں وزارت اعلیٰ کے لیے ق لیگ کو پی ٹی آئی میں ضم کرنا پڑے گا۔

یہ بھی پڑھیے

بلاول بھٹو زرداری نے ایم کیو ایم کے ساتھ معاملات طے پانے کا اشارہ دے دیا

عمران خان کو ناکوں چنے چبوادیں گے ، شہباز شریف اور فضل الرحمان کی دھمکی

وزیراعظم کے معاون خصوصی مولانا طاہر اشرفی نے چوہدری برادران سے ساتھ نہ چھوڑنے کی درخواست کردی جبکہ وزیراعظم آزاد کشمیر بھی مسلم لیگ (ق) کو منانے میں ناکام رہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم آزاد کشمیر کے ساتھ ملاقات میں  چوہدری شجاعت حسین سے صاف کہہ دیا کہ وفاقی وزیر کے حالیہ بیان کے بعد ، اتحاد کی گنجائش باقی رہتی ہے۔

گذشتہ روز مسلم لیگ (ق) کا اجلاس چوہدری شجاعت اور چوہدری پرویز الہیٰ کی زیرصدارت ہوا۔

امید کی جارہی تھی کہ اجلاس میں آئندہ کی حکمت عملی سے متعلق اور تحریک عدم اعتماد کے حوالے سے اہم فیصلے کیے جائیں گے۔ تاہم ایسا کچھ ہوتا دکھائی نہیں دیا۔

میڈیا سے غیررسمی گفتگو کرتےہوئے چوہدری پرویز الہیٰ کا کہنا تھا کہ اسمبلیاں اپنی مدت پوری کریں گی۔ انہوں نے اپوزیشن اور حکومت کا ساتھ دینے کے حوالے سے کوئی واضح بات نہیں کی ، تاہم انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کو اپنی کوششیں جاری رکھنی چاہئیں۔ مطلب انہوں نے اپنے پتے شو نہیں کیے۔

سیاسی تجزیہ کار چوہدری پرویز الہیٰ کے بیان کو سیاسی بیان قرار دے رہے ہیں ، ان کا کہنا ہے اگر اسمبلیاں اپنی مدت پوری کریں گی تو پھر ڈیڑھ سال کے لیے اگلا وزیراعظم کون آئے گا اگر تحریک عدم اعتماد کامیاب ہو جاتی ہے۔ اہم ایشو یہ ہے انہوں  نے یہ بھی کہا ہے کہ وزیراعظم اپنی کوششیں جاری رکھیں ، مطلب انہوں نے تمام آپشنز کھلے رکھے ہوئے ہیں۔ بنیادی طور پر تحریک عدم اعتماد کیچ 22 میں آگئی ہے۔ تحریک عدم اعتماد اب صرف وزیراعظم عمران خان کا مسئلہ نہیں رہا ہے بلکہ ملک کی تمام سیاسی جماعتوں کا مسئلہ بن گیا ہے۔ کون کدھر جائے گا معاملات کیسے چلیں گے ۔ کسی جماعت کو کچھ سمجھ نہیں آرہا یا پھر تمام جماعتیں اپنے پتے عین وقت پر شو کریں گی۔

گزشتہ روز اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ ہم تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے بعد انتخابی اصلاحات کریں گے۔

بلاول بھٹو زرداری کے بیان پر تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر عمران خان تحریک عدم اعتماد میں ہار جاتے ہیں تو کیا وہ اپوزیشن کا ساتھ دیں گے الیکشن ریفارمز لانے میں ، اگر ان کے 15 کے قریب ساتھی ساتھ چھوڑ کر چلے بھی جاتے ہیں تو بھی ان کے 140 سیٹیں ہوں گی۔

دوسری جانب تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اب اندرونی کے ساتھ ساتھ بیرونی اختلافات بھی سامنے آرہے ہیں ، عمران خان یورپی یونین کے خلاف کھل کر بات کررہے ہیں جبکہ بلاول بھٹو زرداری نے کل والی پریس کانفرنس میں کہہ دیا کہ عمران خان انڈیا اور اسرائیل کی فنڈنگ سے اقتدار میں آیا ہے ۔ بڑی گنجلک صورتحال ہے ، کوئی بھی پارٹی فیصلہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے ، سب اپنے اپنے پتے سینے سے لگائے بیٹھے ہیں۔

متعلقہ تحاریر