نوشہروفیروز : گندم کی خریداری میں ایک بار پھر میگا کرپشن کا خدشہ

ؕؕجن افسران کے نام سامنے آئے ہیں وہ پہلے ہی گندم کی ہزاروں بوریوں کاہیر پھیر کرکے قومی خزانہ کو کروڑوں کا نقصان پہنچانے کے الزام میں تحقیقات بھگت رہے ہیں

نوشہروفیروز ضلع میں گندم کی خریداری میں ایک بار پھر کرپشن ہونے کا خدشہ ،محکمہ فوڈ کے حکام کا اہم کارنامہ ،گندم کےخریداری مراکز پر نیب کی پیشیاں بھگتنے والے افسران تعینات کردیئے ،ڈی ایف سی نوشہرو فیروز کا رابطے پر مؤقف دینے سے انکار ۔

سندھ کے اہم ضلع نوشہرو فیروز میں ایک باپھر گندم کی خریداری کے معاملے میں بڑے پیمانے پر کرپشن کا خدشہ ہے ، محکمہ فوڈ نوشہرو فیروز کے افسران کی مجرمانہ غفلت سامنے آگئ۔

یہ بھی پڑھیے

گندم چوری میں ملوث 40ملزمان کو گرفتار کرکے ریفرنسز دائر کیے، نیب سکھر

سندھ: گندم کی کاشت کی زمین پر سیلابی پانی موجود

ذرائع سے ملنے والی رپورٹ کے مطابق محکمہ فوڈ نوشہرو فیروز کے حکام نے سندھ ہائی کورٹ کے اس حکم جس میں کہا گیا تھا کہ نیب  کی پیشی بھگتنے والے کسی بھی افسر کی گندم کی خریداری کے مرکز پر تعیناتی نہ کی جائے کی کھلم کھلا خلاف ورزی جاری ہے۔

اس بار بھی جو خریداری مراکز قائم کیے گئے ہیں وہاں پر نیب کی پیشیاں بھگتنے والے افسران کو ہی انچارج مقرر کیا گیا ہے جس میں مورو میں شفیق چنہ ،دربیلو میں مرتضی انڑ،شوکت آرائیں اور عابد کیریو کے نام سامنے آرہے ہیں جن کے خلاف ہزاروں گندم کی بوریوں کا ہیر پھیر کرکے قومی خزانہ کو کروڑوں روپے کا نقصان پہنچانے کے الزام میں نیب ریفرنسز یا انویسٹی گیشنز جاری ہیں۔

ان افسران کی تعیناتی کے حوالے سے موقف جانے کیلئے جب ڈسٹرکٹ فوڈ کنٹرولر علی حسن مگسی سے نمائندہ نیوز 360نے رابطہ کیا تو انہوں نے  اس حوالے سے بات کرتنا تو درکنار فون تک اٹھانا گواراہ نہ کیا جس کی وجہ سے ایسا لگتا ہے کہ ان بدعنوان  افسران کو ایک بار پھر بڑی کرپشن کرنے کے لیے مقرر کیا گیا ہے۔

متعلقہ تحاریر