نیشنل پاور پلانٹس کی ری فنانسنگ کے لیے 100 ارب روپے کی پیشکشیں موصول
ماہرین معاشیات کے مطابق غیر یقینی سیاسی صورت حال میں مقامی بنکوں اور ان کنسورشیم کا اس طرح سے پیشکشیں دینا بڑا خوش آئند ہے۔
نیشنل پاور پلانٹس کی نجکاری کے لیے ری فنانسنگ میں اہم کامیابی، مقامی بینکوں نے 100 ارب روپے کی پیشکشیں کردیں۔
نیشنل پاور پارک مینجمنٹ کمپنی کو 100 ارب روپے کی پیشکشیں موصول ہو گئیں۔ وزارت نج کاری کے مطابق مقامی 10 بینکوں اور ان کے کنشورشیم نے 100 ارب روپے کی پیشکشیں دیں۔
یہ بھی پڑھیے
فروری میں پانی سے 18.22 فیصد بجلی پیدا کی گئی، سی پی پی اے
ریکوڈک تنازعہ حل، حکومت اور بیرک گولڈ کے درمیان معاہدہ طے پاگیا
رقم نیشنل پاور پارک مینجمنٹ کمپنی کے دو بجلی گھروں کے لیے ہے، اس رقم سے حویلی بہادر شاہ اور بلوکی پاور پلانٹ کی نج کاری اور ری فنانسنگ ہوسکے گی۔
حویلی بہادر شاہ 1230 میگا واٹ اور بلوکی پاور پلانٹ 1223 میگا واٹ بجلی کی صلاحیت کا حامل ہے۔ مجموعی طور پر کمبائن سائیکل پاور پلانٹ دونوں بجلی گھر 2453 میگا واٹ بجلی بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
مقامی بینکوں کی سنڈیکیٹ کی طرف سے 100 ارب سے زائد کی مثالی بولی دی گئی ہیں اور کامیاب بنک سیڈیکیٹ میں اسلامک اور کنونشنل بنک شامل ہیں۔
پاور پلانٹس کی ٹرانزیکشن نجکاری کمیشن وزارت خزانہ کے تعاون سے کر رہا ہے۔
وزارت نجکاری کے اعلامیے کے مطابق اس بارے میں وفاقی وزیر برائے نجکاری محمد میاں سومرو کا کہنا ہے کہ پاور پلانٹس کی نجکاری اپنی نوعیت کی منفرد ٹرانزیکشن ہوگی، ٹرانزیکشن کو مقررہ وقت کے اندر مکمل کرنے کی طرف بڑھ رہے ہیں۔
ماہرین معاشیات کے مطابق غیر یقینی سیاسی صورت حال میں مقامی بنکوں اور ان کنسورشیم کا اس طرح سے پیشکشیں دینا بڑا خوش آئند ہے اور یہ ظاہر کرتا ہے کہ مقامی بینکوں کو حکومتی پالیسیوں اور حکومتی اثاثوں میں سرمایہ کاری میں دلچسپی ہے۔









