ن لیگ کی بلوچستان حکومت فوج کے کہنے پر گرائی تھی، باپ رہنما خالد مگسی

بی اے پی کے رہنما خالد مقسی نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ ان کی پارٹی نے فوج کے حکم پر بلوچستان میں مسلم لیگ ن کی حکومت گرائی تھی۔

اسلام آباد: حکومتی اتحادی جماعت بلوچستان عوامی پارٹی (بی اے پی) نے متحدہ حزب اختلاف کے ساتھ دینے کا اعلان کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کے خلاف ووٹ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ بی اے پی کے قومی اسمبلی میں پانچ ووٹ ہیں جن میں سے چار نے حکومت مخالف اتحاد کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

بلوچستان عوامی پارٹی (بی اے پی) کے پارلیمانی لیڈر خالد مگسی نے پیر کے روز آصف علی زرداری، بلاول بھٹو زرداری، فضل الرحمان اور شہباز شریف کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے اپوزیشن کے ساتھ اتحاد کا اعلان کیا۔

یہ بھی پڑھیے

جنگ گروپ کی بے سروپا خبروں پر چوہدری شجاعت حسین کی وضاحت

پی ڈی ایم عوامی جلسے سے پی ٹی آئی حکومت پر دباؤ بڑھانے میں مکمل ناکام

خالد مگسی کا کہنا تھا ہم بلوچستان کے مسائل اب حل کرنا چاہتے ہیں کیونکہ موجودہ حکومت نے صوبے کو مکمل طور پر نظر انداز کر دیا ہے۔

سینئر صحافی مطیع اللہ جان کی طرف سے پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے رہنما بی اے پی خالد مگسی نے اس بات کا اعتراف کیا کہ فوج کے حکم پر نواز شریف کے دور حکومت میں بلوچستان میں ن لیگ کی حکومت گرائی تھی۔

خالد مگسی کا مزید کہنا تھا کہ انہوں نے وہ اقدام فوج کی ہدایات پر بلوچستان کے اس وقت کے سیٹ کے خلاف اٹھایا تھا ، اور وہ ہدایات انڈین فوج کی نہیں تھیں بلکہ پاکستانی فوج تھی۔

اس پر صحافی مطیع اللہ جان نے کہا ہے کہ آپ کیا کہہ رہے ہیں ، تو خالد مگسی نے کہا جیسا سوال ہو گا ویسا ہی جواب ہوگا۔ واضح سوال کا واضح جواب ہو گا اور مبہم سوالات کا جواب بھی اسی طرح سے دیا جائے گا۔

ویڈیو کلپ سوشل میڈیا پر گردش کر رہا ہے جب کہ صحافی نے مکمل انٹرویو اپنے یوٹیوب چینل پر بھی شیئر کیا ہے۔

میڈیا اطلاعات کے مطابق بلوچستان عوامی پارٹی کی ایک ایم این اے اور وزیر برائے دفاعی پیداوار زبیدہ جلال نے تحریک عدم اعتماد میں وزیر اعظم خان کے خلاف ووٹ دینے سے انکار کر دیا تھا۔

اس سے قبل بلوچستان میں مفاہمت اور ہم آہنگی کے بارے میں وزیراعظم کے معاون خصوصی اور جمہوری وطن پارٹی (جے ڈبلیو پی) کے سربراہ شاہ زین بگٹی نے وزیراعظم خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد میں اپوزیشن کا ساتھ دینے کا اعلان کیا تھا۔

اپوزیشن جماعتوں کو بڑا دھچکا

وزیراعظم عمران خان نے تازہ ترین سیاسی چال چلتے ہوئے چوہدری پرویز الہٰی کو پنجاب کی وزارت اعلیٰ کی پیشکش کر کے پاکستان مسلم لیگ قائد (پی ایم ایل-ق) کو کامیابی سے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت میں لے آئے ہیں۔

وزیراعظم عمران خان کے اس اقدام کے بعد تحریک عدم اعتماد کے معاملے پر جہانگیر ترین خان گروپ کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے ، ترین گروپ کی حمایت تحریک عدم اعتماد کی کامیابی یا ناکامی کا نکتہ آغاز ہوگا۔

دوسری جانب پی ٹی آئی حکومت کی ایک اور اتحادی جماعت بلوچستان عوامی پارٹی (بی اے پی) نے وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد میں اپوزیشن کا حصہ منتخب کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

پاکستان تحریک انصاف حکومت نے جہانگیر ترین گروپ کی حمایت حاصل کرنے کی کوششیں تیز کردی ہیں۔ جب کہ وزیر اعظم نے ناراض اراکین کو منانے کے لیے نامزد وزیراعلیٰ پنجاب پرویز الٰہی کو ایک اہم ٹاسک سونپ دیا ہے۔

متحدہ قومی موومنٹ پاکستان (MQM-P) نے بھی سیاسی پیش رفت کے بعد ایک بار پھر حکومت کی طرف جھکاؤ کا اشارہ دیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک اپنے حتمی فیصلے کا اعلان نہیں کیا۔

پیر کی پیش رفت کے بعد، توقع ہے کہ جہانگیر ترین گروپ جلد ہی کوئی حتمی فیصلہ لے گا۔

متعلقہ تحاریر