وزیراعظم آج شام سے لیٹر گیٹ پر نئے انکشافات کا سلسلہ شروع کریں گے

عمران خان ایک ملک سے موصول ہونے والے دھمکی آمیز مراسلے کے حقائق مرحلہ وار عوام کے سامنے لائیں گے، وزیراعظم نے اسٹیبلشمنٹ کا دباؤ مسترد کردیا

تحریک انصاف کی حکومت  نے تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ سے قبل اپوزیشن کو مزید سرپرائزز دینے کا فیصلہ کرلیا۔ وزیراعظم عمران خان آج شام سے لیٹر گیٹ سے متعلق نئے انکشافات کا سلسلہ شروع کریں گے۔

نیوز360 کے ذرائع کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے ایک ملک سے موصول ہونے والے دھمکی آمیز مراسلے کے حوالے سے آج شام سے مزید انکشافات کا سلسلہ شروع کریں گے۔

یہ بھی پڑھیے

آخری دم تک مقابلہ کرونگا، وزیراعظم کا ملکی و غیرملکی قوتوں کو پیغام

عمران خان نے بطور وزیراعظم آخری خطاب میں ترپ کا پتہ چل دیا

ذرائع کے مطابق مقتدر اداروں نے وزیراعظم کو لیٹر گیٹ پر نئے انکشافات سے روکنے کی ہرممکن کوشش کی ہے تاہم وزیراعظم  دھمکی آمیز مراسلے کے مندرجات مرحلہ وار عوام کے سامنے لانے پر مصر ہیں۔

اطلاعات کے مطابق عمران خان نے مقتدر قوتوں کی تجویز پر دوبارہ غور کے بعد کسی قسم کا دباؤ قبول کرنے سے انکار کردیا ہے۔ ذرائع کے مطابق وزیراعظم ٹی وی انٹرویوز اور مختلف تقریبات سے خطاب میں مراسلے میں ذکر کردہ دیگر اہم شخصیات کے نام بھی سامنے لاسکتے ہیں جس کا عندیہ انہوں نے گزشتہ روز اپنے خطاب میں کیا تھا۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز وزیراعظم نے  قوم سے خطاب میں اپنی حکومت کیخلاف کی گئی غیرملکی سازش کا پردہ فاش کیا تھا۔وزیراعظم عمران خان نے کہا تھا کہ 7 یا 8 مارچ کو ہمیں ایک ملک سے پیغام آیا کہ تحریک عدم اعتماد آرہی ہے جس سے ظاہر ہے کہ اپوزیشن کے پہلے سے ہی باہر کے لوگوں سے رابطے تھے، یہ پاکستان کی حکومت کے خلاف نہیں بلکہ عمران خان کے خلاف ہے،اس ملک کا کہنا ہےکہ اگر عمران خان چلا جاتا ہے تو ہم پاکستان کو معاف کردیں گے لیکن اگر تحریک ناکام ہوئی تو پاکستان کو مشکل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ یہ  آفیشل دستاویز ہے جس میں پاکستانی سفیر کو کہا گیا کہ اگر عمران خان وزیراعظم رہا تو نہ صرف تعلقات خراب ہوں گے بلکہ پاکستان کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے، قوم سے پوچھتا ہوں کہ کیا یہ ہماری حیثیت ہے ؟ کہا گیا کہ بعد میں جو لوگ آئیں گے ہمیں ان سے کوئی مسئلہ نہیں، روس جانے کا فیصلہ دفتر خارجہ اور عسکری قیادت کی مشاورت سے ہوا، ہمارا سفیر ان کو بتا رہا تھا کہ یہ مشاورت سے ہوا ہے پر کہا گیا  نہیں یہ صرف عمران خان کی وجہ سے ہوا، اصل میں وہ کہہ رہے ہیں کہ عمران کی جگہ جو آئے گا تو ان سے ہمیں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔

متعلقہ تحاریر