حزب اختلاف نے اسپیکر قومی اسمبلی کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کردی
اسپیکر اسد قیصر کے خلاف تحریک عدم اعتماد پاکستان مسلم لیگ نواز (پی ایم ایل این) کے ایم این اے مرتضیٰ جاوید عباسی نے قومی اسمبلی سیکرٹریٹ میں جمع کرائی۔
اسلام آباد: اتوار کو پارلیمنٹ کے ایوان زیریں میں وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ سے چند گھنٹے قبل مشترکہ حزب اختلاف نے اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کرادی۔
اسپیکر اسد قیصر کے خلاف تحریک عدم اعتماد پاکستان مسلم لیگ نواز (پی ایم ایل این) کے ایم این اے مرتضیٰ جاوید عباسی نے قومی اسمبلی سیکرٹریٹ میں جمع کرائی اور اسپیکر کو عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ کیا۔
یہ بھی پڑھیے
وفاقی حکومت نے گورنر پنجاب چوہدری سرور کو عہدے سے ہٹا دیا
چوہدری پرویز الہٰی کی کا میابی ہم سب کی کامیابی ہے، عثمان بزدار
مسلم لیگ (ن) کے رہنما کے نوٹس میں کہا گیا ہے کہ اسپیکر کو اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 53 کے تحت رولز آف پروسیجر اینڈ کنڈکٹ آف بزنس 2007 کے رول 12 کے مطابق عہدے سے ہٹایا جائے۔

مرتضیٰ جاوید عباسی نے مزید کہا کہ ضابطہ 12 کی ذیلی شق (1) اور (2) کے قوائد کے مطابق، نوٹس میں کہا گیا ہے کہ قرر داد کی کاپیاں تمام ممبران قومی اسمبلی کو ورکنگ ڈیز میں پہنچائی جائیں۔
حزب اختلاف کی جماعتیں ، اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کے معمول کے قانون سازی کے معاملات اور خاص طور پر وزیر اعظم عمران کے خلاف قومی اسمبلی میں پیش کی گئی تحریک عدم اعتماد کے حوالے سے ان کے رویے سے خوش نہیں ہے۔
مرتضیٰ جاوید عباسی کی جانب سے جب اسپیکر قومی اسمبلی کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کی گئی تو ان کے ساتھ اپوزیشن کے دیگر رہنما خورشید شاہ ، ایاز صادق ، نوید قمر اور شاہدہ اختر علی بھی موجود تھیں۔ تحریک پر اپوزیشن کے100 سے زائد ارکانِ قومی اسمبلی کے دستخط موجود ہیں۔









