کرپشن کیسز کی تحقیقات کرنے والے افسران کی پراسرار موت کا سلسلہ پھر شروع
رمضان شوگر ملز کیس کی تحقیقات کرنے والے سابق ڈائریکٹر ایف آئی اے ڈاکٹر رضوان حرکت قلب ہونے سے انتقال کر گئے جبکہ 2013 میں رینٹل پاور کیس کی تحقیقات کرنے والے نیب کے آفیسر کامران فیصل پراسرار طور پر مردہ پائے گئے تھے۔
رمضان شوگر ملز کیس کی تحقیقات کرنے والے سابق ڈائریکٹر فیڈرل انوسیٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) ڈاکٹر رضوان پراسرار طور پر حرکت قلب بند ہونے سے انتقال کر گئے۔
فیملی ذرائع کے مطابق ڈاکٹر رضوان کو لاہور کے سروسز اسپتال لایا گیا جہاں ڈاکٹروں نے ان کی موت کی تصدیق کر دی۔
ڈاکٹر رضوان ڈائریکٹر ایف آئی اے پنجاب تعینات تھے تاہم موجودہ حکومت کے آتے ہی ڈاکٹر رضوان کو عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیے
پاکپتن: ن لیگ کے ایم پی اے کے والد قتل ، مقدمہ سابق گن مین کے خلاف درج
نوشہرہ کے آئل ڈپو میں آتشزدگی، متعدد آئل ٹینکرز راکھ کا ڈھیر بن گئے
واضح رہے کہ ڈاکٹر رضوان نے رمضان شوگر ملز کیس میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف اور ان کے خاندان کے خلاف ایف آئی اے کی تمام تحقیقات کی سربراہی کی تھی۔
جے ڈی ڈبلیو شوگر ملز کیس میں جہانگیر خان ترین، الائنس شوگر ملز کیس میں وفاقی وزیر خسرو بختیار کے خاندان کے ساتھ ساتھ گجرات کے چوہدری بھی شامل ہیں۔
2018 میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت میں ڈاکٹر رضوان اور شہزاد اکبر کی قیادت میں اثاثہ ریکوری یونٹ (ARU) سے منسلک رہے۔ جنہیں بعد میں ترقی دے کر دسمبر 2019 میں ڈائریکٹر ایف آئی اے لاہور زون تعینات کردیا گیا تھا۔
واضح رہےکہ 2013 میں رینٹل پاور پروجیکٹ کرپشن کیس کی تحقیقات کرنے والے نیب کے آفیسر کامران فیصل بھی پراسرار طور پر مردہ پائے گئے تھے ، جس پر اس وقت کی حکومت نے ایک رکنی عدالتی کمیشن تشکیل دیا تھا۔

یاد رہے کہ طبی ماہرین نے رینٹل پاور پروجیکٹ کرپشن کیس کی تفتیش کرنے افسر کی پراسرار موت کو خود کُشی قرار دیا تھا۔
کامران فیصل نے رینٹل پاور کیس پر تحقیقاتی رپورٹ 15 جنوری 2013 میں سپریم کورٹ میں جمع کرائی تھی جس پر عدالت عظمیٰ نے وزیراعظم راجہ پرویز اشرف سمیت 16 ملزمان کیخلاف ریفرنس دائر کرنے کا حکم دیا تھا۔









