وزیراعلیٰ سندھ کی بی آر ٹی اورنج لائن کوریڈور جلد مکمل کرنے کی ہدایت
مراد علی شاہ نے اجلاس میں کراچی ماس ٹرانزٹ اتھارٹی کو ہدایت دی کہ رواں ماہ کے آخری ہفتے تک کام مکمل کریں، جون میں منصوبہ فعال کرنا ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کراچی ماس ٹرانزٹ اتھارٹی (کے ایم ٹی ایس) کو ہدایت کی ہے کہ بی آر ٹی اورنج لائن کوریڈور کا باقی ماندہ کام رواں ماہ کے آخر تک مکمل کیا جائے۔
وزیراعلیٰ ہاؤس میں اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگلے ماہ کے آغاز سے کے ایم ٹی سی کو فعال کرنا ہے۔
محکمہ ٹرانسپورٹ نے وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ 3.8 کلومیٹر اورنج لائن کا 95 فیصد کام مکمل ہوچکا ہے۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ چار اسٹیشنوں اور ایک ڈپو پر8 دروازے نصب کیے جائیں گے۔ مراد علی شاہ نے ماس ٹرانزٹ اتھارٹی کو مئی کے آخر تک کام مکمل کرنے کی ڈیڈلائن دی تاکہ جون کے پہلے ہفتے سے سروس شروع کی جاسکے۔
منصوبے کیلیے 2 ارب روپے کی مطلوبہ رقم جاری کی جاچکی ہے۔ بی آر ٹی اورنج لائن TMA اورنگی سے جناح یونیورسٹی برائے خواتین تک بورڈ آفس کے قریب سے شروع ہوتی ہے۔
دوسری طرف سندھ پیپلز انٹرا ڈسٹرکٹ بس منصوبہ سندھ حکومت نے سندھ ماس ٹرانزٹ اتھارٹی کے ذریعے شروع کیا ہے۔
NRTC کو ابتدائی طور پر 250 بسیں خریدنے کا پراجیکٹ سونپا گیا ہے جن میں سے 240 کراچی (انٹرا سٹی) میں سات روٹس پر اور 10 بسیں لاڑکانہ کے لیے چلائی جائیں گی۔
وزیراعلیٰ سندھ کو بتایا گیا کہ یوپی موڑ ڈپو میں انفراسٹرکچر کی اصلاح، مینٹیننس پٹ ایکٹیویشن، پینٹنگ اورپانی کی بورنگ کا کام شروع کیا گیا ہے۔
644 بس شیلٹرز میں سے 39 روٹ تھری پر تعمیر کیے گئے ہیں۔ 250 میں سے 120 بسیں شنگھائی بندرگاہ سے روانہ کردی گئی ہیں۔
NRTC کو چھ بس ڈپوز کا لائسنس دیا جائے گا جن میں سرجانی ٹاؤن بس ڈپو، اپ موڑ بس ڈپو، مہران بس ڈپو، گلشن غازی بس ڈپو، گلشن بہار بس ڈپو، لاڑکانہ بس ڈپو شامل ہیں۔
چھ بس ڈپو میں سے دو سرجانی بس ڈپو اور اپ موڑ بس ڈپو کو سرکاری طور پر NRTC کے حوالے کردیا گیا ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ نے ماس ٹرانزٹ اتھارٹی کو 15 مئی تک 49 بسیں اور بقایا 20 جون تک حاصل کرنے کی ڈیڈ لائن دی۔
اجلاس میں وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل میمن، مشیر قانون مرتضیٰ وہاب، چیف سیکریٹری سہیل راجپوت، چیئرمین پی اینڈ ڈی حسن نقوی، سیکریٹری خزانہ ساجد جمال ابڑو، سیکریٹری ٹرانسپورٹ حلیم شیخ اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔









