احسن اقبال نے اپنی وزارت میں سگریٹ نوشی پر پابندی عائد کردی

وزارت منصوبہ بندی میں سگریٹ نوشی کی ممانعت اور کیلئے ہیلتھ آرڈیننس 2002 کا سختی سے نفاد کا فیصلہ

وفاقی وزیربرائے منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال نے اپنے دفتر میں سگریٹ نوشی پر پابندی عائد کردی ہے ۔ پابندی  ہیلتھ آرڈیننس  2002 کے تحت لگائی گئی ہے ۔

مائیکرو بلاگنگ سائٹ ٹوئٹر پر اپنے ایک پیغام میں وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا کہ  وزارت   منصوبہ بندی و ترقی  میں سگریٹ نوشی کی ممانعت اور سگریٹ نہ پینے والوں کی  تحفظ صحت  کے لیے ہیلتھ آرڈیننس 2002 کا سختی سے نفاد کرے گی ۔

 یہ بھی پڑھیے

پاکستان میں نظام صحت میں بہتری کیلئے عالمی بینک کا بڑی امداد کا اعلان

وزارت منصوبہ بندی و ترقی سے جاری کردہ ایک نوٹیفکیشن میں  وزارت کے تمام دفاتر میں سگریٹ نوشی پر پابندی عائد کردی گئی ہے ۔ نوٹیفکیشن  کے مطابق  دفاتر میں سگریٹ نوشی اور کسی بھی طرح کی تمباکو کا استعمال  ممنوع قرار دیا گیا ہے ۔

نوٹیفکیشن  میں بتایا گیا ہے کہ وفاقی حکومت نے ایسی جگہوں پر جہاں تمباکو نوشی نہ کرنے والوں کی صحت کے تحفظ کے لیے مناسب انتظامات کیے  ہیں۔  تمباکو نوشی کے مخصوص علاقوں کی اجازت کے لیے ہدایات جاری کر سکتی ہے۔

منسٹری آف پلاننگ، ڈیولپمنٹ اور خصوصی اقدامات کے تمام دفاتر میں سگریٹ نوشی یا کسی بھی طرح کی تمباکو کا استعمال  سخت ممنوع رہے گا ۔ خلاف ورزی پر قانونی کارروائی کی جائے گی ۔

خیال رہے کہ اس سے قبل وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے ملک کی معاشی صورتحال کے پیشِ نظر عوام کو کم چائے پینے کا مشورہ دیا  تھا ۔

انہوں نے کہا تھا کہ قوم چائے کے ایک یا دو کپ کم کریں کیونکہ ہم جو چائے درآمد کرتے ہیں وہ بھی ادھار لے کر کرتے ہیں۔ احسن اقبال کے اس مشور ے پر سوشل میڈیا صارفین نے  ان کا خوب مذاق اڑایا تھا ۔

ایک  سوشل میڈیا صارف نے چائے میں کمی کے مشورے کو اپنے بنیادی انسانی حقوق کی خلاف وزری قرار دیا تھا  جبکہ ایک صارف نے کہا تھا کہ دو کپ چائے پینے والی ملک کے دشمن ہیں۔

Facebook Comments Box