نہر خیام کی بحالی کا بھولا بسرا منصوبہ شہریوں کی جانیں لینے لگا

بوٹ بیسن کے قریب نہر خیام میں 7 افراد ڈوب گئے،3افراد کو بچالیا گیا، 4 افراد کی لاشیں برآمد، سندھ حکومت نے 2019 میں نہر خیام کو تفریحی مقام میں تبدیل کرنےکا منصوبہ بنایا تھا

سندھ حکومت کے نہرم خیام  کو تفریحی مقام میں تبدیل کرنے کے  بھولے بسرے منصوبے نے کراچی کے شہریوں کی قیمتی جانیں  لینا شروع کردیں. 

کراچی کے علاقے بوٹ بیسن میں بے نظیر بھٹو پارک کے قریب جمع سمندری پانی میں 7 افراد ڈوب گئے، جن میں سے 4 افراد جاں بحق ہو گئے جبکہ 3 کو بے ہوشی کی حالت میں نکال لیا گیا۔

یہ بھی پڑھیے

کراچی میں ایک گھنٹے کی بارش، 4 افراد جاں بحق، آدھا شہر پانی اور آدھا اندھیرے میں ڈوب گیا

کراچی والوں کو بجلی کے مزید جھٹکوں کا امکان، 11روپے فی یونٹ اضافہ متوقع

ہجرت کالونی کے رہائشی 4 نوجوان بدھ کی شام بوٹ بیسن بے نظیر پارک پہنچے جن میں سے 2 نوجوان قریب ہی سمندر کے ٹھہرے ہوئے پانی میں اترے تو ڈوب گئے۔

ڈوبنے والوں کی تلاش میں ایدھی کی بحری ریسکیو ٹیم نے آپریشن شروع کیا۔پولیس کے مطابق اندھیرا ہونے کے باعث رات گئے ڈوبنے والوں کی تلاش کا عمل رکا تو عزیز و اقارب مشتعل ہو گئے۔

اپنی مدد آپ کے تحت ڈوبنے والوں کی تلاش میں پانی میں اترنے والے عزیز و اقارب میں سے 5 مزید افراد بھی ڈوب گئے جن میں سے 3 کو بے ہوشی کی حالت میں نکال کر اسپتال منتقل کیا گیا۔

ڈوبنے والے 4 افراد کی لاشیں نکال لی گئی ہیں، ڈوبنے والے چاروں افراد کی شناخت حماد، ریاض، سیف اللّٰہ اور اللّٰہ داد کے نام سے ہوئی ہے۔

نہر خیال کی بحالی کا منصوبہ 2019 میں پیش کیا گیا

سندھ حکومت نے کم از کم تین سال قبل  کلفٹن کے علاقے میں کراچی گرامر اسکول کے قریب واقع ایک کھلے نالے نہر خیام کی بحالی کا منصوبہ شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ یہ منصوبہ کراچی نیبرہڈ منصوبے کے تحت شروع کیا گیا تھا اور کچھ اہم شخصیات جیسے جمیل یوسف، شاہد سعد اللہ اور دیگر کو آؤٹ سورس کیا گیا تھا۔

اکتوبر 2019 میں وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کراچی کے علاقے کلفٹن میں نہر خیام کو ایک تفریحی مقام میں تبدیل کرنے کے لیے اپنی کابینہ کے ذریعے ایک نجی پارٹی کے ساتھ ایک معاہدے پر دستخط کرنے کی منظوری دی تھی۔

دی نیوز کی رپورٹ کے مطابق وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ نے اعلان کیا تھا کہ یہ نہر کراچی کے لوگوں کے لیے ایک تحفہ ہو گی تاکہ وہ اپنے اہل خانہ کے ساتھ یہاں پکنک منا سکیں، خوبصورت کشتیوں میں سفر کر سکیں ، کتابیں پڑھ سکیں اور اس کے کنارے پر مختلف ذائقوں کی کافی  سے لطف اندوز ہوسکیں ۔

Nehr-i-Khayyam, نہر خیام

صوبائی وزیر بلدیات سید ناصر حسین شاہ نے نہر خیام کی بہتری کے لیے سندھ حکومت اور نجی تنظیم پی اے این آئی  کے درمیان ہونے والے معاہدے سے متعلق ایک ایجنڈا آئٹم پیش کیا۔ آرکیٹیکٹ شاہد عبداللہ کی قیادت میں این جی اوز کے ایک گروپ کی نمائندگی کرنے والی تنظیم  PANI نے اپنے منصوبے کے لیے کابینہ سے منظوری طلب کی۔

نہر خیام گزری سے شروع ہوتی ہے اور اوشین مال سے ہوتی ہوئی سمندر تک جاتی ہے۔کئی دہائیوں پہلے اس نہر کو طوفان کے پانی کو سمندر میں نکالنے کے لیے استعمال کی جاتی تھی ۔

تاہم گزشتہ کچھ دہائیوں میں نہر خیام کو سیوریج کی نکاسی کیلیے  استعمال کیا جانے لگا  اور اس کے کناروں پر ٹھوس فضلہ ڈالنے کا رواج عام ہوگیاجب کہ اس کے اطراف کی زمین قبضہ مافیا   کے شکنجے میں آگئی۔

مسودے میں کہا گیا ہے کہ نہر خیام کے ذریعے اس وقت پہنچائے جانے والے سیوریج کے ہموار بہاؤ کو الگ کرنے اور اس کو یقینی بنانے کے لیے، سندھ حکومت اس حصے میں ایک علیحدہ نالہ تعمیر کرے گی جو پارک کی تعمیر کے لیے تجویز کیا گیا ہے.

تجویز کے تحت پارک کو کسی سیاسی سرگرمی کے لیے استعمال نہیں کیا جائے گا اور اس کا ٹائٹل حکومت کے پاس رہے گا، جب کہ اسے کسی تجارتی سرگرمی کے لیے استعمال نہیں کیا جائے گا، ٹک شاپس کے علاوہ نہر کے دونوں جانب 15 فٹ تک  کسی قسم کی تعمیرات کی اجازت نہیں ہوگی۔

اس موقع پر وزیراعلیٰ نے کہا تھا کہ منصوبہ پہلے ہی تاخیر کا شکار ہے، اس لیے کابینہ شہر کے وسیع تر مفاد میں اس کی منظوری دے۔ انہوں نے محکمہ لوکل گورنمنٹ  کو معاہدے پر دستخط کرنے اور ترقیاتی کام شروع کرنے کی اجازت دی۔

تاہم بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب پیش آئے واقعے کو دیکھ کرلگتا ہے کہ بیوٹی فکیشن  تو ایک طرف سندھ حکومت اور کراچی کی انتظامیہ نالے کو ڈھانپنا بھی بھول گئی ہے کیونکہ  یہ نہر اطراف کی آبادی کیلیے تعفن اور شہر یوں کی قیمتی جانیں لینے کا باعث بن رہی ہے ۔

متعلقہ تحاریر