دعا زہرہ کیس میں کال ڈیٹا ریکارڈ نے ظہیر احمد کا پول کھول دیا

پولیس رپورٹ کے مطابق کال ڈیٹا ریکارڈ  نے دعا زہرا کے اغوا کے روز ظہیر احمد کی کراچی میں موجودگی ظاہر کی

دعا زہرہ کیس میں کال ڈیٹا ریکارڈ نے ظہیر احمد کا پول کھول دیا۔ دعا زہرا کا گھر چھوڑنے والے دن ظہیراحمد کی کراچی میں موجودگی ثابت ہوگئی ہے ۔ عدالت نے کیس کی سماعت 19 جولائی تک ملتوی کردی۔

کراچی کی مقامی عدالت میں دعا زہرہ کیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ کیس کے تفتیشی افسرنے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ ایسٹ  کے روبرو اپنا جواب داخل کروایا جس میں  بتایا گیا ہے کہ  دعا کا گھر چھوڑ لاہور جانے والے روز ظہیر احمد کراچی میں موجود تھا ۔

یہ بھی پڑھیے

دعا زہرا کیس کا تفتیشی افسر بے ایمان قرار، عدالت میں تبدیلی کی درخواست دائر

میڈیا نمائندوں سے گفتگو میں تفتیشی افسر نے تصدیق کی کہ کال ڈیٹا ریکارڈ (سی ڈی آر) سے ظہیر احمد کی کراچی میں موجودگی اس دن ظاہر ہوئی جب دعا زہرہ اپنی رہائش گاہ سے لاپتہ ہوئی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ شکایت کنندہ کو اعتراض اٹھانے کا حق ہے۔

واضح رہے کہ زہرہ کے والد مہدی علی کاظمی نے آئی او شوکت شاہانی کو کیس سے ہٹانے کے لیے درخواست دائر کی تھی جس کی سماعت آج ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج محبوب اعوان نے کی۔

دعا زہرا کے والد مہدی کاظمی کے وکیل جبران ناصر نے کیس  سے متعلق پیشرفت پر ٹوئٹر پر اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پولیس نے آج دعا زہرہ کیس میں اہم رپورٹ پیش کردی ہے ۔

جبران ناصر نے کہا کہ آخر کارعدالت کو بتایا گیا  کہ انہیں ظہیر کا سی ڈی آر ملا ہے اور اغوا کے دن یعنی 16 اپریل کو وہ کراچی میں تھا۔ یہ 2 مہینے پہلے دریافت ہو جانا چاہیے تھا۔ اغوا کار بچی کو اپنے حق میں کیمرے پر جھوٹ بولنے پر مجبور کر رہا ہے۔

وکیل جبران ناصر نے کہا کہ ملزم ظہیر کے ذریعہ دعا زہرا کے معاملے میں پیش کیے گئے دفاع کے 2 پہلو تھے۔  ایک یہ کہ دعا کی عمر 18 سال  سے زائد ہے  تاہم  میڈیکل بورڈ نے اسے غلط ثابت کیا۔ دعا 14 سال کی نا بالغ بچی  ہے اور دوسرا یہ کہ  دعا خود لاہور گئی اور وہاں ظہیر سے ملاقات کی جبکہ اب سی ڈی آر نے غلط ثابت کر دیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ تفتیشی افسر ظہیر احمد کو   فائدہ پہنچانے کی کوشش کر رہا ہے ۔ اس نے   زبر دستی  جنسی تعلقات کے ارادے   سے اغوا  کی دفعات کو ہٹاکر سادہ سا کیس بنانا چارہا کہ لڑکی کو شادی کی نیت سے گھر سے لیکر فرار ہوا۔

سماعت سے قبل جبران ناصر نے نیوز 360  سے گفتگو میں کہا کہ عدالت یہاں سماعت جاری رکھنے کا فیصلہ کرے گی یا آئی او کے جواب جمع کروانے کے بعد کیس میں دیگر خصوصی عدالتوں سے رجوع کرنے کا مشورہ دے گی۔

کیا دعا زہرہ کو ظہیر احمد کے خلاف کارروائی کی مزاحمت پر مجبور کیا جا رہا ہے؟

وکیل نے کہا کہ موجودہ آئی او نے بظاہر اس کیس کو سبوتاژ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ  تفتیشی افسر  کو تبدیل کرنے کے لیے پولیس کے اعلیٰ افسران سے بھی ملاقات کی لیکن ابھی تک کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر محکمہ اس کیس کی تفتیش کی درست سمت اختیار کرنے میں ناکام رہا تو وہ اگلے مرحلے میں پولیس کے اعلیٰ افسران سے رابطہ کیا جائے گا ۔

متعلقہ تحاریر