فواد چوہدری کا حامد خان پر ارسلان افتخار کی کرپش میں ملوث ہونے کاالزام

افتخار چوہدری کے دور میں حامد خان اور ارسلان افتخار پارٹنر تھے اور دونوں نے ملکر کام چلایا ہوا تھا، پی ٹی آئی رہنما کی پروگرام دنیا کامران خان کے ساتھ میں گفتگو

تحریک انصاف کے رہنما فواد چوہدری نے عمران خان کے وکیل حامد خان کی جانب سے بھری عدالت میں  کی گئی بے عزتی کا بدلہ ٹی وی اسکرین پر کروڑوں ناظرین کے سامنے لے لیا۔

فواد چوہدری نے حامد خان پر چیف جسٹس(ر) افتخار محمد چوہدری کے بیٹے ارسلان افتخار کے ساتھ کرپشن کرنے کا الزام عائد کردیا۔

یہ بھی پڑھیے

دہشتگردی کیس ، عمران خان کی ضمانت میں 12 ستمبر تک مزید توسیع

توہین عدالت کیس: عدالتوں کی جانب سے ملزمان کو بار بار مواقع دینے کی ایک تاریخ ہے

فوادچوہدری نے گزشتہ روز سینئر اینکر پرسن کامران خان کے شو دنیا کامران خان کے پروگرام میں شرکت کی۔ اس موقع پر کامران خان نے سوال کیا کہ  آپ کا موقف ابھی بھی یہی ہے کہ عمران خان صاحب کومعافی نہیں مانگنی چاہیے؟ عمران خان کے وکیل حامد خان نے تو آج عمران خان کے سامنے آپ کے موقف سے لاتعلقی کا اعلان کیا ہے۔آپ کا مشورہ کیا ہوگا کہ عمران خان ابھی بھی معافی نہ مانگیں چاہے عدالت انہیں سزا سنادے۔

فوادچوہدری نے کہا کہ  حامد خان کو عمران خان نے وکیل کیا ہے تو وہ اپنا کچھ نہ کچھ موقف بنائیں گے۔ فواد چوہدری  نے بات بدلتے ہوئے حامد خان پر الزام عائد کیا کہ افتخار چوہدری کے دور میں وہ اور ارسلان افتخار پارٹنر تھے اور دونوں نے ملکر کام چلایا ہوا تھا۔ فواد چوہدری کے حامد خان پر باریکی سے کیے گئے زبانی حملے پر کامران خان بھی محظوظ ہوئے بنا نہیں رہ سکے اور انہوں نے فواد چوہدری کے الزام کا مختصر دوبارہ تذکرہ بھی کیا۔

فوادچوہدری کا کہنا تھا عمران خان معافی مانگیں یا نہ مانگیں یہ مسئلہ نہیں ہے، عدالت کو مشورہ ہے کہ وہ شہباز گِل پر تشدد اور توہین عدالت کے کیس دونوں کو ساتھ سنے۔

یاد رہے کہ وز اسلام آباد ہائیکورٹ میں عمران خان کے خلاف توہین عدالت کی درخواست کی سماعت کے دوران ایڈووکیٹ جنرل جہانگیر جدون نے دلائل میں کہا کہ فواد چوہدری نے کہا چیف جسٹس کو معافی مانگنی چاہیے۔

اس پر عمران خان کے وکیل حامد خان نے کہا کہ ہمارا اس بیان سے کوئی تعلق نہیں، اُس شخص (فواد چوہدری) سے کسی اچھائی کی توقع بھی نہیں کی جاسکتی۔ حامد خان کی اس بات پر عمران خان بھری عدالت میں ہنسنے پر مجبور ہوگئے تھے۔

متعلقہ تحاریر