چینی، گھی، آٹے اور کھاد کی افغانستان کو اسمگلنگ جاری، وزیراعظم کی کارروائی بیانات تک محدود

سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہورہی ہے جس میں سینکڑوں چینی ، گھی اور آٹے سے لدے ہوئے ٹرک ہمسایہ ملک افغانستان اسمگل ہو رہے ہیں۔

پاکستان ایک زرعی ملک ہے مگر اس وقت شدید گندم ، چینی ، گھی اور یوریا کھاد کے بحران میں گھرا ہوا ہے ، اس کی وجہ یہ نہیں کہ ملک میں گندم یا کماد کی پیدا کم ہوئی ہے بلکہ اس وجہ ملک کی کرپٹ مینجمنٹ ہے۔ سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہورہی ہے جس میں سینکڑوں چینی ، گھی اور آٹے سے لدے ہوئے ٹرک ہمسایہ ملک افغانستان اسمگل ہو رہے ہیں، تاہم وزیراعظم شہباز شریف نے اشیائے ضروریہ کی اسمگلنگ روکنے کےلیے بین الاقوامی بارڈرز پر ایماندار افسر تعینات کرنے کی ہدایت کردی ہے۔

آٹے ، چینی اور گھی سے لدے ہوئے سینکڑوں ٹرک روزانہ کی بنیاد پر بلوچستان کے علاقے خاران سی پیک روڈ سے براستہ نوکنڈی افغانستان جاتے ہیں۔ اور یہ سب کچھ کسٹمز کے کرپٹ افسران کی ناک کے نیچے ہورہا ہے۔ اطلاعات یہ بھی ہیں بارڈر سیکورٹی فورسز بھی اس دھندے میں ملوث ہیں۔

ایک جانب عالمی ادارہ صحت رپورٹ دے رہا ہے کہ پاکستان کی تقریباً 43 فیصد آبادی غذائی قلت کا شکار ہے ، جبکہ دوسری جانب اس ملک کی کرپٹ افسران چند سکوں کی خاطر ہمسایہ ملک افغانستان کے باسیوں کی بھوک مٹانے کے لیے گھی ، چینی اور آٹے سے بھرے ہوئے ٹرک بغیر کسی خوف کے سپلائی کررہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

قمبر میں دیور نے فائرنگ کرکے بھابھی اور بھتیجی کو قتل کردیا

اسلام آباد کی رہائشی خاتون کا اینکر جمیل فاروقی پر ریپ کی کوشش کا الزام

شہباز شریف حکومت نے رمضان کے مہینے میں غریبوں میں مفت آٹے کے تقسیم کی اسکیم متعارف کروائی، جس کے حصول کے لیے 22 سے زیادہ قیمتی جانیں ضائع ہو گئیں۔

پیر کے روز وزیراعظم شہباز شریف کی زیرصدارت چینی ، گھی ، گندم اور یوریا کھاد کی اسمگلنگ روک تھام کے حوالے اہم اجلاس ہوا۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ اشیائے ضروریہ کی اسمگلنگ کسی صورت قبول نہیں۔ اسمگلنگ کسی بھی معاشرے کے لیے ناسور کی حیثیت رکھتی ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے اسمگلنگ میں ملوث افراد کے خلاف سخت آپریشن کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ انسداد اسمگلنگ کےلیے لائحہ عمل دو روز میں پیش کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال میں اسمگلنگ بالکل برداشت نہیں کی جائے گی۔

شہباز شریف نے سختی سے ہدایات دیں کہ بین الاقوامی بارڈرز پر ایماندار افسران کو تعینات کیا جائے، تاکہ اسمگلنگ کی لعنت کو روکا جاسکے۔ کرپٹ افسران کو ہٹانے میں کوئی دباؤ قبول نہ کیا جائے۔ اینٹی اسمگلنگ کورٹس کو فوری طور پر فعال کیا جائے۔ اینٹی اسمگلنگ کورٹس کی تعداد کو بھی بڑھایا جائے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اینٹی اسمگلنگ کورٹس میں اچھی شہرت والے ججز اور پراسیکیوٹرز کی تعداد بڑھائی جائے۔

تجزیہ کاروں نے وزیراعظم شہباز شریف کی زیرصدارت اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے ہونے والے اجلاس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہنا ہے کہ اسملگلرز کے خلاف یہ کارروائی دو چار دن جاری رہے گی پھر ویسے ہی سارے معاملات چل پڑیں گے۔ کیونکہ کرپشن اس ملک کی مینجمنٹ کی نس نس پر بس چکی ہے۔

بی بی سی نے اپنی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ ایک اندازے کے مطابق ’کوئٹہ سے تقریباً ہر دوسرے روز 100 ٹن چینی اور ہفتے میں تقریباً 700 ٹن چینی غیر قانونی راستوں کے ذریعے افغانستان پہنچائی جا رہی ہے۔‘

متعلقہ تحاریر