سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں اسمگلنگ کی بازگشت

سینیٹر انوار الحق کاکڑ نے الزام لگایا ہے کہ بلوچستان کے 5 اضلاع میں اسمگلنگ سے 10 سے 12 ارب روپے ماہانہ کمائے جاتے ہیں۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ اور محصولات میں اشیائے ضروریہ کی اسمگلنگ کی بازگشت ، سینیٹر انوار الحق کاکڑ نے انکشاف کیا ہے کہ بلوچستان میں ماہانہ 10 سے 12 ارب روپے اسمگلنگ سے کمائے جارہے ہیں۔

گذشتہ روز سینیٹر سلیم ایچ مانڈوی والا کی زیر صدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ اور محصولات کے اجلاس میں سینیٹرز فاروق ایچ نائیک، انوار الحق کاکڑ اور کامل علی آغا نے غیر ملکی کرنسی اور دیگر اشیائے ضروریہ کی وسیع پیمانے پر اسمگلنگ سے متعلق رپورٹس کمیٹی کے سامنے پیش کیں۔

یہ بھی پڑھیے

آئی ایم ایف کا اسٹاف لیول معاہدے کیلئے اگلے مالی سال کے بجٹ منصوبوں کا جائزہ

عمران خان اور بشریٰ بی بی کا نکاح کیس: گواہ عون چوہدری کا بیان قلمبند

سینیٹر انوارالحق کاکڑ کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے علاقے چمن اور تفتان بارڈر پر ڈیڑھ سال سے نئی صورتحال پیدا ہو گئی ہے ، ایران سے روزانہ کی بنیاد پر 3 کروڑ لیٹر سے زائد ڈیزل اور پیٹرول پاکستان میں اسمگل کیا جارہا ہے ، جبکہ بارڈر پر تعینات افسران اور کسٹمز کے عملے کی جانب سے مکمل مجرمانہ خاموشی اختیار کی جارہی ہے۔

سینیٹر انوارالحق کاکڑ نے الزام لگایا کہ سرحدوں پر تعینات مختلف ایجنسیاں اور فورسز براہ راست اسمگلنگ کے ذمہ دار ہیں ورنہ اتنی بڑی مقدار میں اسمگلنگ ممکن نہیں۔

انہوں نے الزام لگایا کہ ڈپٹی کمشنرز 40 ہزار روپے فی کنسائنمنٹ کے حساب سے ٹوکن جاری کر رہے ہیں اور ہر ماہ 10 سے 15 ارب روپے کا تبادلہ کیا جاتا ہے۔

سینیٹر انوار الحق کاکڑ کا کہنا تھا کہ صوبے میں بے روزگار نوجوانوں کے نام پر بڑے بڑے اور چھپے ہوئے چہرے اس کاروبار کو چلا رہے ہیں لیکن یہ کھلا راز ہے کہ بے روزگار نوجوانوں اور غریبوں کے بجائے طاقتور اور بااثر لوگ اس کھیل میں ملوث ہیں۔

متعلقہ تحاریر