سارہ قتل کیس: عدالت نےمقتولہ کے سسر ایاز امیر کو رہا کرنے کا حکم دے دیا  

اسلام آباد کی عدالت نے سارہ قتل کیس میں گرفتار مقتولہ کے سسر سینئر صحافی ایاز امیر کی  مزید ریمانڈ کی درخواست مسترد کرتے ہوئے انہیں رہا کرنے کا حکم دے دیا، عدالت نے دونو ں اطراف کے وکلاء کے دلائل سننے کے بعد  فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ ایاز امیر کے خلاف ابھی تک کوئی ثبوت  موجود نہیں  ہیں

اسلام آباد کی عدالت نے سارہ قتل کیس میں مقتولہ کے سسر  سینئر صحافی  ایاز امیر کےمزید ریمانڈ کی درخواست مسترد کرتے ہوئے انہیں رہا کرنے کا حکم دے دیا۔

 کینڈین نژاد پاکستانی خاتون سارہ قتل کیس میں مقتولہ کے سسر ملزم ایاز امیر کو پولیس نے ایک روزہ ریمانڈ مکمل ہونے پر ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج  اسلام آباد  کی عدالت میں پیش کیا۔

یہ بھی پڑھیے

سارہ قتل کیس: ایاز امیر اور ان کے صاحبزادے جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے

پولیس نے عدالت سے استدعا کی کہ ایاز امیر کا مزید پانچ روزکا جسمانی ریمانڈ  دیا جائے تاہم ملزم کے وکیل کی جانب سے مزید ریمانڈ کی  مخالفت کی گئی ۔

ملزم کے وکیل نے کہا کہ ان کے موکل ایازامیر کے خلاف پولیس کے پاس کوئی ثبوت نہیں جبکہ جہاں قتل ہوا اس گھر سے ایازامیر کا 35 سال سے کوئی تعلق نہیں تھا۔

وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ ایاز امیر کو اس کیس میں رہا کیا جائے۔ سرکاری وکیل نے مزید ریمانڈ دیئے جانے کے حق میں دلائل دیئے ۔

سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ابھی تک اس کیس میں جو ثبوت ملا ہے اس کے تحت ایاز امیر اور قتل کے مرکزی ملزم شاہ نواز کا واٹس ایپ کے ذریعے رابطہ ہوا ہے۔

عدالت کو بتایا گیا کہ شادی کے بعد چکوال میں مقتولہ کی موجودگی بھی ثابت ہے۔ وکیل کا کہنا تھاکہ مقتولہ کے والدین کے پاس اس حوالے سے سارے ثبوت ہیں۔

عدالت نے دونو ںاطراف کے وکلاء کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ ایاز امیر کے خلاف ابھی تک کوئی ثبوت  موجود نہیں  ہیں ۔

عدالت نے ایاز امیر  کے مزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا  مسترد کرتے ہوئے سینئر صحافی ایاز امیر کو رہا کرنے کا حکم دے دیا۔

متعلقہ تحاریر