سارہ انعام کے ورثا کا ٹرائل مکمل ہونے تک اسلام آباد میں قیام کا فیصلہ
سارہ کا شوہر ایک لٹیرا اور بھتہ خور ہے جس نے منصوبہ بندی کے تحت اسے پھنسایا، رقم بٹوری، ذہنی تشدد کا نشانہ بنایا اور پھر بے دردی سے قتل کردیا،پاکستان کے عدالتی نظام سے انصاف چاہتے ہیں، مقتولہ کے والد کی پریس کانفرنس

اسلام آباد کے علاقے چک شہزاد میں گزشتہ ماہ اپنے شوہر کے ہاتھوں قتل کی جانے والی کینیڈا کی شہری سارہ انعام کے خاندان نے مبینہ قاتل کے خلاف عدالتہ ٹرائل مکمل ہونے تک اسلام آباد میں قیام کا فیصلہ کیاہے۔
اس بات کا اعلان مقتولہ کے والد اور 2 بھائیوں نے قریبی رشتیداروں کے ساتھ گزشتہ روز اسلام آباد پریس کلب میں غیرسرکاری تنظیم ہیلپنگ ہارٹ کیئرنگ سول کے بانی کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔
مقتولہ کے والدانعام نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ سارہ کا شوہر ایک لٹیرا اور بھتہ خور ہے جس نے اسے اپنے مذموم مقاصد کے لیے پھنسایا۔
یہ بھی پڑھیے
سارہ انعام قتل کیس: ملزم شاہ نواز امیر کے ریمانڈ میں 4 روز کی توسیع
سارہ قتل کیس: عدالت نےمقتولہ کے سسر ایاز امیر کو رہا کرنے کا حکم دے دیا
انہوں نے مزید کہا کہ معروف صحافی ایاز امیر کے بیٹے شاہنواز نے سارہ انعام کو شادی کے لیے آمادہ کیا اور بعد میں اس سے پیسے بٹورنے لگا۔شاہنواز مقتولہ سے رقم کا مطالبہ کرتا رہا اور اسے ذہنی تشدد کا نشانہ بناتا رہا اور بعد میں اسے بے دردی سے قتل کر دیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ مقتولہ سارہ انعام کینیڈا میں کام کرتی تھی اور یو ایس ایڈ سے بھی وابستہ تھی،وہ ابوظہبی کی وزارت خزانہ میں بطور کنسلٹنٹ کام کر رہی تھی۔
انہوں نے بتایا کہ تقریباً 8 سے 10 ہفتے پہلے سارہ نے انہیں بتایا کہ وہ کسی کے ساتھ تعلقات میں ہے اور شادی کرنا چاہتی ہے، جولائی کے آخری ہفتے میں اس کی شادی کی خبر سن کر اہل خانہ حیران رہ گئے۔
انہوں نے کہاکہ جب یہ پتہ چلا کہ داماد ایازامیر کا بیٹا ہے تو اہلخانہ کو سکون ملا۔انہوں نے کہا کہ بعد میں ملزم ایاز کی والدہ نے ان سے فون پر بات کی اور سارہ کی تعریف کی۔ مقتولہ کے والد انعام نے بتایا کہ سارہ ابوظہبی میں رہتی تھیں اور شاہنواز پاکستان میں، انہوں نے شاہنواز سے کئی بار فون پر بات کی جس میں وہ بہتر لگا تھا ۔
انہوں نے بتایا کہ بعد ازاں شاہنواز نے سارہ سے رقم کا مطالبہ کرنا شروع کردیا اور خاندان آہستہ آہستہ اس نتیجے پر پہنچا کہ وہ بھتہ خور ہے، مقتولہ کے والد نے بتایا کہ ہمیں نہیں معلوم کہ ملزم نے مقتولہ سے بھتے میں کتنے رقم لی کیونکہ سارہ کے اکاؤنٹ ابوظہبی میں ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ ایک یا دو بار پاکستان آئی لیکن اہل خانہ کو اس کا علم نہیں تھا۔ شاہنواز نے اسے پھنسایا اور بعد میں اسے قتل کر دیا اور یہ سب منصوبہ بندی کے تحت کیا گیا۔انہوں نے مزید کہا کہ فارم ہاؤس میں صرف سارہ ، اسکا شوہر اور ساس تھے اور اگلے دن اس کی لاش وہاں سے ملی۔
انہوں نے کہا کہ ہم پاکستانی عدالتی نظام سے انصاف چاہتے ہیں، ہمارے وکیل کا خیال ہے کہ شاہنواز کے خلاف مقدمہ مضبوط ہے کیونکہ اس کے پاس ٹھوس شواہد موجود ہیں۔انہوں نے پولیس اور کیس کی تحقیقات پر اطمینان کا اظہار کیا۔
سینئر صحافی ایاز امیر کے بارے میں مقتولہ کے والدنے کہا کہ وہ قتل کے وقت گھر میں موجود نہیں تھے، ہم اس کیس میں کسی بے گناہ کو پھنسانا نہیں چاہتے لیکن جو بھی قصوروار ہے اسے سزا ملنی چاہیے۔
اس موقع پر سارہ انعام کے بھائی، چچا اور ایک خالہ اور کزنز نے بھی خطاب کیا۔ مقتولہ کے چچا اکرام الرحمان کا کہنا تھا کہ اگر نور مقدم کے قاتل کو پھانسی دی جاتی توکیا ایسا ہوتا؟









