صحافی جبران پیش امام کی گاڑی کو ایڈیشنل آئی جی کے زیراستعمال کار کی ٹکر
پولیس افسر کے اہلخانہ کو لے جانے والے ڈرائیور نے جائے وقوعہ پر رکنا بھی گوارا نہیں اور موقع سے فرار ہوگیا۔ایڈیشنل آئی جی نے جبران پیش امام کو ہی مورد الزام ٹھہرادیا۔

سینئر صحافی اور امریکی خبررساں ادارے رائٹر ز کے پاکستان میں بیورو چیف جبران پیش امام کی گاڑی کو ایڈیشنل آئی جی حیدر رضا کے عملے کی گاڑی نے ٹکر ماردی۔
پولیس افسر کے اہلخانہ کو لے جانے والے ڈرائیور نے جائے وقوعہ پر رکنا بھی گوارا نہیں اور موقع سے فرار ہوگیا۔ایڈیشنل آئی جی نے جبران پیش امام کو ہی مورد الزام ٹھہرادیا۔
یہ بھی پڑھیے
رہنما پی ٹی آئی بلال غفار پر حملہ ، زخمی حالت میں اسپتال میں داخل
آؤ مل کر کھاتے ہیں، پیپلز پارٹی کی ایم کیو ایم کو حکومت میں شمولیت کی دعوت
جبران پیش امام نے اپنے ٹوئٹ میں سندھ پولیس کی گاڑی کی تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ کراچی میں آج سعودی قونصل خانے کے سگنل پر پولیس کی نمبر پلیٹ والی گاڑی نے مجھے ہٹ کیا۔
Hit by a police played vehicle today in Karachi at the Saudi consulate signal
Asked the fellow to stop to assess the damage he caused but he hurled some expletives & fled
Tried to follow but had wife&kids with me so couldn’t match his crazed driving.
Can Twitter help locate him? pic.twitter.com/4ut2pAOSDh
— Gibran Peshimam (@gibranp) October 16, 2022
اپنے نقصان کا اندازہ لگانے کیلیے میں نے کارسوار کو رکنے کا کہالیکن وہ فضولیات بکتا ہوا فرار ہوگیا۔میں نے اس کا پیچھا کرنے کی کوشش کی لیکن بیوی بچے ساتھ تھے اس لیے اسکی دیوانہ وار ڈرائیونگ کا مقابلہ نہیں کرسکا، کیا ٹوئٹر اسے تلاش کرنے میں مدد کرسکتا ہے؟
جبران پیش امام کے ٹوئٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے ایڈیشنل آئی جی آپریشنز حیدررضا نے کہاکہ جبران صاحب پریشانی کیلیے معذرت، میں ایڈیشنل آئی جی آپریشنز سندھ پولیس حیدررضاہوں اور یہ میرے عملے کی گاڑی ہے اورمیرے اہل خانہ کو لیکر جارہی تھی ، میں اس معاملے کی انکوائری کروں گا۔ اطلاع کے مطابق آپ کی گاڑی نے میری گاڑی کو پیچھے سے ٹکر ماری تاہم سی سی ٹی وی فوٹیج سے یہ بات واضح ہو سکتی ہے۔









