پشاور یونیورسٹی میں رکنیت سازی مہم کے دوران فائرنگ، ایک پولیس اہلکار زخمی

ڈاکٹر ادریس وائس چانسلر پشاور یونیورسٹی کا کہنا ہے کہ یونیورسٹی میں کسی قسم کی بدامنی برداشت نہیں کی جائے گی ، ذمہ داروں کے خلاف سخت ایکشن لیا جائےگا۔

صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت میں واقع پشاور یونیورسٹی میں طلباء تنظیموں میں لڑائی کے دوران فائرنگ سے ایک پولیس اہلکار زخمی ہوگیا، وائس چانسلر پشاور یونیورسٹی نے ملزمان کی گرفتاری کےلیے تمام ہوسٹلز میں سرچ آپریشن کا حکم دے دیا۔

تفصیلات کے مطابق فائرنگ کا واقعہ اس وقت پیش آیا جب پشاور یونیورسٹی میں انصاف اسٹوڈنٹس فیڈریشن کی رکنیت سازی مہم جاری تھی کہ طالب علم آپس میں لڑ پڑے اور ایک طالب علم نے فائرنگ شروع کردی جس کے زد میں آکر ایک اہلکار زخمی ہوگیا۔

یہ بھی پڑھیے

دعا منگی اغوا کیس کے مفرور ملزم ذوہیب قریشی کے بیرون ملک فرار کاخدشہ

سال 2021، سندھ میں غیرت کے نام پر 128 خواتین قتل

زخمی اہلکار کو فوری طور پر ریسکیو کرتے ہوئے خیبر ٹیچنگ اسپتال منتقل کردیا گیا ، فائرنگ کرنے والے طالب علم کو گرفتار کرلیا گیا تاہم دیگر طلباء کی  گرفتاری کے لیے وائس چانسلر ڈاکٹر ادریس نے یونیورسٹی میں سرچ آپریشن کی اجازت دے دی ہے۔

صدر انصاف اسٹوڈنٹ فیڈریشن اقبال داوڑ کا کہنا ہے کہ طالب علم وقار مروت نے فائرنگ کی جس سے پولیس اہلکار زخمی ہوا، تنظیم کے سابق رکن وقار مروت نے رکنیت کی معطلی پر لڑائی کی، وقار مروت کی رکنیت بلدیاتی انتخابات میں مخالفین کو سپورٹ کرنے پر معطل کی گئی تھی۔

ڈاکٹر ادریس وائس چانسلر پشاور یونیورسٹی کا کہنا ہے کہ یونیورسٹی میں کسی قسم کی بدامنی برداشت نہیں کی جائے گی۔ کیمپس پولیس اور ایڈمنسٹریشن کو سختی سے تلاشی لینے کا کہہ دیا ہے۔

وائس چانسلر پشاور یونیورسٹی کا مزید کہنا تھا کہ اسلحہ رکھنے والے طلبہ کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے گا۔

متعلقہ تحاریر