آئی ایم ایف بھی پاکستانی اداروں میں فائل کلچر سے پریشان

آئی ایم ایف کے مطابق قانونی اور ریگولیٹری اصلاحات کی ضرورت ہے۔ کاروبار شروع کرنے کا عمل سہل اور غیر ضروری ریگولیشنز ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف ) نے اپنی رپورٹ میں آئینہ دکھا دیا۔ کہتے ہیں پاکستان میں ریگولیشنز کی بہتات ہے اور  بیورو کریسی فیصلے کرنے سے کتراتی ہے، روایتی سست روی اور نااہلی کاروبار کو متاثر کررہی ہے اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بگاڑ رہی ہے۔

آئی ایم ایف نے پاکستان میں بیوروکریسی کی نااہلی کو کاروبار اور سرمایہ کاری کی راہ میں رکاوٹ کی بڑی وجہ قرار دے دیا۔

آئی ایم ایف نے ریگولیشنز کی بہتات سے کرپشن کے خطرات میں اضافے کے خدشات بھی ظاہر کئے ہیں۔ آئی ایم ایف نے  پاکستان کی کنٹری رپورٹ میں کہا ہے کہ بیورو کریسی کی نااہلی کو پاکستان میں کاروباری سرگرمیوں اور سرمایہ کاری میں اضافے کی راہ میں رکاوٹ کی بڑی وجہ قرار دیا ہے-

یہ بھی پڑھیے

منی بجٹ کی آڑ میں حکومت نے 1100 اشیاء پر سیلز ٹیکس لگا دیا

آئی ایم ایف سے قرض کی چھٹی قسط ملنے کے بعد روپیہ مستحکم

آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ ریگولیشنز کی بہتات اور کمزور ٹیکس سسٹم ٹیکس ادائیگیوں میں رکاوٹ ہے- رپورٹ کے مطابق سرحد پار تجارت اور پراپرٹی کی رجسٹریشن میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے- اس سے کرپشن کے خطرات میں اضافہ ہوتا ہے جبکہ ملازمت کے مواقع  اور سرمایہ کاری متاثر ہوتی ہے-

آئی ایم ایف نے ٹیکس ادائیگی کا عمل آسان بنانے پر زور دیا ہے۔ ساتھ ہی کاروباری ماحول بہتر کرنے کیلئے اقدامات تجویز کیے ہیں۔

آئی ایم ایف کے مطابق قانونی اور ریگولیٹری اصلاحات کی ضرورت ہے۔ کاروبار شروع کرنے کا عمل سہل اور غیر ضروری ریگولیشنز ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

آئی ایم ایف نے سرحد پار تجارت کے عمل کو بہتر کرنے اور کسٹمز سے متعلق پروسیسنگ ٹائم اور امپورٹ ایکسپورٹ دستاویزات کی تیاری میں کم وقت لگانے پر زور دیا ہے۔

متعلقہ تحاریر