پال پوگبا بھارت میں حجاب پر پابندی کیخلاف، فرانس میں پابندی پر کیوں خاموش؟

دنیا بھر کی معروف شخصیات بھارت میں سیکولر ازم کے نام پر شدت پسندی پر تنقید کررہے ہیں۔

دنیا کے سب سے مہنگے فٹبالر پال پوگبا بھی بھارت میں مذبہی انتہا پسندی کے خلاف میدان میں آگئے، کہتے ہیں کہ ہندوتوا کے حامی طلبا حجاب پہن کر کالج آنے والی مسلم لڑکی کو ہراساں کررہے ہیں، یہ شدت پسندی ہے۔

بھارتی ریاست کرناٹک میں انتہا پسند ہندوجتھو ں کے سامنے حجاب  کی حمایت کرتے ہوئے جے شری رام کے جواب میں نعرہ تکبیر  بلند کرنے والی 24 سالہ مسکان کی بھارت ہی نہیں پوری دنیا میں تعریف کی جارہی ہے تو دوسری جانب معروف شخصیات بھارت میں سیکولر ازم کے نام پر شدت پسندی پر تنقید کررہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

سونم کپور اور جاوید اختر بھی حجاب پر پابندی کیخلاف بول پڑے

باحجاب بھارتی طالبہ مسکان دنیا بھر میں مزاحمت کی علامت بن گئی

فرانس سے تعلق رکھنے والے 24  سالہ فٹبالر پال پوگبا نے  بھارت میں  شدت پسندہندو گروہوں کی جانب سے مسلمان لڑکی مسکان کی حمایت کرتے ہوئے اپنے سوشل میڈیا کاؤنٹ پر انتہا پسندوں کے مسلم طالبات کو ہراساں کرنے کی وڈیو شئیر کی ہے ، ویڈیو کے کیشن میں انہوں نے لکھا کہ بھارت میں ہندوتوا کے حامی طلبا حجاب پہن کر کالج آنے والی لڑکی کو ہراساں کررہے ہیں۔

ایک منٹ دورانیے کی ویڈیو میں فٹ بالر نے (اسلام میرا مذہب) کا ٹیگ استعمال کیا، پال پوگبا کی پوسٹ پر ایک صارف نے سوال کیا کہ بھارت میں انتہا پسندی اور حجاب پر پابندی پر بات کرنے والے فٹبالر فرانس میں حجاب پر پابندی پر کیوں خاموش ہیں ؟

خیال رہے کہ فرانس سے تعلق رکھنےوالے پال پوگبا  سنہ 2016 میں دنیاکے سب سے   مہنگے   فٹبالر قرار پائے تھے جب انگلش فٹبال کلب مانچسٹر یونائیٹڈ نے آٹھ کروڑ 90 لاکھ پاؤنڈ کی ریکارڈ قیمت کے عوض اطالوی کلب یووینٹس سے ان کی خدمات حاصل کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

متعلقہ تحاریر