سیکرٹری ہوابازی اور سی ای او پی آئی اے کو عدالتی نوٹسز جاری
اسلام آباد ہائی کورٹ میں پی آئی اے انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ میں نان انجنیئرز کی تعیناتیوں کے خلاف کیس کی سماعت ہوئی تھی۔
اسلام آباد ہائی کورٹ نے پی آئی اے انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ میں بڑے پیمانے پر نان انجنیئرز کی تعیناتی پر چیف ایگزیکٹو پی آئی اے کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا ہے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ میں پی آئی اے انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ میں نان انجنیئرز کی تعیناتیوں کے خلاف کیس کی سماعت ہوئی۔ درخواست گزار کی جانب سے بیرسٹر عمر اعجاز گیلانی عدالت میں پیش ہوئے۔
یہ بھی پڑھیے
پی ٹی آئی حکومت نے آرڈیننس جاری کرنے میں پی پی اور ن لیگ کو پچھاڑ دیا
جماعت اسلامی سپریم کورٹ میں، پینڈورا کا فیصلہ پاناما سے مختلف ہوگا
بیرسٹر عمر اعجاز گیلانی نے عدالت کے سامنے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ چیف انجینئر، ڈپٹی چیف انجینئر اور ایئر کرافٹ انجینئر کے عہدے پر ایف اے پاس لوگوں کو بٹھایا گیا۔
بیرسٹر عمر اعجاز گیلانی کا کہنا تھا کہ پی آئی اے انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ میں نان انجنیئرز کی تعیناتیاں خلاف قانون ہیں، پاکستان انجینئرنگ کونسل ایکٹ کے مطابق انجنیئر کی پوسٹ پر انجنیئر ہی تعینات ہونگے۔
درخواست گزار کے وکیل کا مزید کہنا تھا کہ پی آئی اے انتظامیہ پی ای سی ایکٹ کی مسلسل خلاف ورزی کررہی ہیں۔
عدالت نے استفسار کیا کہ پی آئی اے میں انجنیئرز کی بھرتی کے لیے کیا قابلیت درکار ہے؟ اس پر درخواست گزار کے وکیل کا کہنا تھا کہ ابھی تو زیادہ تر انجنیئرز کی پوسٹ پر تو میٹرک یا انٹرمیڈیٹ پاس لوگوں کو بٹھایا گیا، پی آئی اے کے اصل ڈگری ہولڈرز انجنیئرز رل رہے ہیں جسے جان بوجھ کر سائڈ لائن کیا گیا۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس بابر ستار نے سیکرٹری وزارت ہوا بازی اور چیف ایگزیکٹو پی آئی اے کو بھی نوٹسسز جاری کرتے ہوئے جواب دو ہفتوں میں طلب کرلیا ہے۔









