خبر کا مقصد حقیقت بتانا ہے، حقیقت یہ ہے لیرا ڈالر کے مقابلے میں پِٹ گیا

آج ہم بات کریں گے ترکی کی معاشیات اور ڈالر ریٹ کے بارے میں ۔ یہ خبر بین الاقوامی سطح پر بہت بڑی خبر بن چکی ہے کہ ترکی کی  کرنسی "لیرا” ، "ڈالر” کے مقابلے میں بہت زیادہ ڈی ویلیو ہوئی ہے۔  

نیوز 360 کے نامہ نگار الیان الکریم کی تحقیق کےمطابق لیرا ڈی ویلیو ہونے سے ترکی میں مہنگائی کا طوفون آیا جو کہ ایک انٹرنیشنلی سچ ہے۔ پچھلے 4 سے 8 ماہ کے دوران ترکی میں 30 سے 50 فیصد تک مہنگائی دیکھی گئی ہے۔ مثال کے طور پر دو سال پہلے ایک بس کا ٹکٹ ڈھائی لیرے ہوا کرتا تھا ، وہی بس کا ٹکٹ ساڑھے پانچ لیرا کا ہو گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

بطور اینکر پرسن اپنے کیریئر کا آغاز بزنس پلس سے کیا، نصرت حارث

صحافت میں حادثاتی طور پر آگئی تھی، اینکر پرسن ماریہ میمن

ایک بات جو پاکستانی سیاحوں کے لیے دلچسپی کا باعث ہے وہ یہ ہے کہ ایک لیرا دو سال پہلے 30 روپے کا ہوا کرتا تھا مگر اب وہی لیرا 13 روپے کا ہوگیا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ مہنگائی روپے کے مقابلے میں نہیں بڑھی ہے۔

نیوز کا مقصد ہوتا ہے لوگوں کو سچائی یا حقیقت بتانا ، تو حقیقت یہ ہے کہ ڈالر کے مقابلے میں لیرا بہت گر گیا ہے۔ مگر پاکستانی کمیونٹی کو بہت فائدہ ہوا ہے کیونکہ لیرا پاکستان کے مقابلے میں سستا ہوگیا ہے ، اس لیے پاکستانی اب خریداری پاکستانی روپے میں کرتے ہیں۔

نیوز 360 کے نامہ نگار نے مزید کیا کیا تجربات شیئر کیے ہیں دیکھتے ہیں اس وی لاگ میں۔

Facebook Comments Box