کرپٹو ایکسچینج بائننس کامالک چانگ پینگ ژاؤ دنیا کے امیر ترین افراد میں شامل

چینی نژاد کینیڈین تاجر کی مالیت کا تخمینہ کم ازکم 96ارب ڈالر تک جاپہنچا،دولت اوریکل کے بانی لیری ایلیسن کے برابرہوچکی،مکیش امبانی کو پیچھے چھوڑ دیا

کرپٹو ایکسچینج اور کرپٹو کرنسی بائننس کے مالک چانگ پینگ ژاؤ عرف سی زیڈ دنیا کے امیر ترین افراد میں شامل ہوگئے۔

چینی نژاد کینیڈین تاجر کی مالیت کا تخمینہ کم ازکم 96ارب ڈالر تک جاپہنچا،ژاؤ کی دولت اوریکل کے بانی لیری ایلیسن کے برابرہوچکی، بھارتی بزنس ٹائیکون مکیش امبانی کو پیچھے چھوڑ دیا۔

یہ بھی پڑھیے

کرپٹو کرنسی کیس پر حکومت وقار ذکا کو کیوں ہراساں کررہی ہے؟

پاکستان میں کرپٹو کرنسی کی مالیت20ارب ڈالر سے تجاوز کرگئی

پیر کو شائع ہونے والے بلومبرک بلینیئر انڈیکس کے نئے اعداد وشمار کے مطابق  ژاؤ کی دولت اب اوریکل کے بانی لیری ایلیسن کے برابر ہوچکی  ہے اور انہوں نے بھارتی بزنس ٹائیکون مکیش امبانی کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے جن کی دولت  بھی گزشتہ دو سالوں میں بلند ہوئی ہے۔ چینی نژاد کینیڈین کاروباری شخصیت کا عروج ڈیجیٹل  کرنسی کے کاروبا ر کی ترقی کی علامت ہے۔

گزشتہ سال ورچوئل کوائنز کی قدر میں اضافے سے دیگر کرپٹو کرنسیوں  کے بانیان نے بھی بے حد منافع کمایا تھاجن میں ایتھریم کےمالک ویٹالک بٹرین اور کوائن بیس کے بانی برائن آرمسٹرانگ دونوں ارب پتی بن گئے۔

دنیا کے امیر ترین ارب پتیوں کی فہرست میں شامل ہونے کے باجود چانگپینگ ژاؤ دولت کی  درجہ بندی پر یقین نہیں رکھتے۔انہوں نے منگل کو ایک ٹوئٹ میں لکھا کہ درجہ بندی کی فکر نہ کریں۔ اس بات پر توجہ مرکوز کریں کہ آپ کتنے لوگوں کی مدد کر سکتے ہیں۔

بائننس کے ترجمان نے سی این این بزنس کو بتایا کہ سی زیڈ دیگر ارب پتی افراد کی طرح اپنی زیادہ تر دولت، یہاں تک کہ 99فیصدخیرات کرنے  کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ژاؤ نے 2017 میں کرپٹو ایکسچینج بائننس  کا آغاز کیا اور  آہستہ آہستہ اسے دنیا کے سب سے بڑے کرپٹو ایکسچینجز میں سے ایک بنا دیا۔کمپنی کی ایک بلاگ پوسٹ کے مطابق ژاؤ  کینیڈا میں ایک تارکین وطن خاندان میں پلے بڑھے  اور ابتدائی ایام میں انہوں نے گھر والوں  کی مدد کیلیے میک ڈونلڈز میں کام بھی کیا ۔

ژاؤ نے  میک گل یونیورسٹی میں کمپیوٹر سائنس کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد ٹوکیو اسٹاک ایکسچینج اور بلومبرگ کے لیے تجارتی سافٹ ویئر پر کام کیا۔ 2013 میں پوکر کے کھیل کے دوران ژاؤ کو بٹ کوائن کا علم  ہوا  جس کے بعد اس نے اپنی زندگی اس کے لیے وقف کر کے کرپٹو پر جانے کا فیصلہ کیا، بائننس کے مطابق  ژاؤ نے بٹ کوائن خریدنے کے لیے اپنا اپارٹمنٹ بھی بیچ دیا تھا۔

ورچوئل کرنسی کے  دیگر ایکسچینجز کی  طرح بائننس کو بھی  حالیہ مہینوں میں دنیا بھر میں اہم ریگولیٹری رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا ہے جن میں برطانیہ اورکینیڈا سمیت  کئی ممالک میں پابندیاں بھی شامل ہیں۔تاہم  چانگ پینگ یاؤ قوائد و ضوابط کو اپنی صنعت کیلیے سود مند سمجھتے ہیں۔گزشتہ برس ایک کھلے خط میں انہوں نے لکھا تھا کہ مسلسل ترقی کے لیے واضح ضابطے اہم ہیں،قواعد و ضوابط درحقیقت اس بات کی مثبت علامتیں ہیں کہ ایک صنعت پختہ ہو رہی ہے۔

متعلقہ تحاریر