نواز شریف کے لندن میں مزے، شہباز شریف برے پھنسے

قائد حزب اختلاف کی لاہور ہائی کورٹ میں پیشی انہیں مشکل میں ڈال سکتی کیونکہ انہوں نے مسلم لیگ (ن) کے تاحیات قائد نواز شریف کی بیرون ملک روانگی کےلیے بیان حلفی جمع کرایا تھا۔

قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف کے اُس حلف نامے نے انہیں مشکل میں ڈال دیا ہے جو انہوں نے سابق وزیراعظم نواز شریف کی بیرون ملک علاج کے بعد وطن واپسی کی ضمانت کے طور پر جمع کرایا تھا۔

وفاقی حکومت نے پاکستان مسلم لیگ نواز (پی ایم ایل این) کے قائد نواز شریف کی لندن سے وطن واپسی کے لیے لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اور شہباز شریف کے خلاف بھی کارروائی کے لیے لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ گذشتہ روز وفاقی حکومت نے پنجاب حکومت سے نواز شریف کی میڈیکل رپورٹس پر ماہرانہ طلب کی ہے ، ماہرین نے نواز شریف کی  صحت کو بہتر قرار دیا تو ان کے معالج سے رابطہ کیا جائے گا ، ماہرین کی رائے ملنے کے بعد نواز شریف کی وطن واپسی کے متعلق لائحہ عمل تیار کیا جائے گا۔ وفاقی کابینہ نے اٹارنی جنرل کو شہباز شریف کے خلاف درخواست تیاری کا کہا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

مولانا فضل الرحمان کی نئی گاڑی کیلیے وی آئی پی رجسٹریشن نمبر جاری

عدالتی احکامات پر کراچی میں تجاوزات گرانے کا کام جاری

بیان حلفی میں لکھا گیا تھا کہ شہباز شریف اپنے بھائی نواز شریف کی چار ہفتوں کے اندر واپسی کو یقینی بنائیں گے ، لیکن یہ شرط بھی رکھی گئی تھی کہ ڈاکٹرز جب انہیں پاکستان کے سفر کے لیے موزوں قرار دیں گے۔

Shahbaz Sharif Oath Nawaz Sharif

بیان حلفی میں لکھا گیا تھا کہ پاکستانی ایمبیسی کے حکام کو نواز شریف کی میڈیکل رپورٹس باقاعدہ جمع کرائی جائے گی۔

شہباز شریف کی جانب سے لکھ کر دیا گیا تھا کہ نواز شریف کی میڈیکل رپورٹس متواتر پاکستانی سفارتخانے کو نوٹری کی جائیں گی، جبکہ رپورٹس رجسٹرار عدالت کو بھیجنے کا وعدہ بھی کیا تھا۔

حلف نامے میں یہ بھی لکھا گیا تھا کہ "میں یہ بھی عہد کرتا ہوں کہ اگر کسی بھی مرحلے پر، وفاقی حکومت کے پاس مصدقہ اطلاعات ہوئیں کہ میاں محمد نواز شریف سفر کے لیے فٹ ہونے کے باوجود بیرون ملک مقیم ہیں، تو پاکستانی ہائی کمیشن کے نمائندے کو ان کے معالج سے ملاقات کرنے کا حق حاصل ہوگا۔”

اس سے قبل یہ بات سامنے آئی تھی کہ وفاقی حکومت نے شہباز شریف کے خلاف ‘جعلی’ بیان حلفی پر لاہور ہائی کورٹ (ایل ایچ سی) سے رجوع کرنے کے فیصلے کے ساتھ سابق وزیر اعظم نواز شریف کا لندن میں میڈیکل ریکارڈ اکٹھا کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔

ذرائع نے نیوز 360 کو بتایا کہ وفاقی حکومت پاکستان مسلم لیگ نواز (پی ایم ایل این) کے قائد نواز شریف کو لندن سے وطن واپس لانے لائحہ عمل پر غور کررہی ہے۔ ذرائع کا کہنا تھا کہ لندن میں پاکستانی ہائی کمیشن نواز شریف سے ان کا میڈیکل ریکارڈ بھی طلب کرے گا۔

مزید یہ کہ حکام نواز شریف کی صحت کے حوالے سے معالجین سے بھی رائے لیں گے کہ آیا وہ اب سفر کرنے کے قابل ہیں یا نہیں۔

فواد چوہدری نے اس سے قبل اعلان کیا تھا کہ وفاقی حکومت نے سابق وزیراعظم کی وطن واپسی کی ضمانت دینے والے شہباز شریف کے خلاف لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

واضح رہے کہ نواز شریف 19 نومبر 2019 کو علاج کے لیے لندن روانہ ہوئے تھے اور واپس نہیں آئے۔

متعلقہ تحاریر