بلاول بھٹو زرداری نے جناح اسپتال میں سرجیکل کمپلکس کا افتتاح کردیا

چیئرمین پیپلز پارٹی کا کہنا ہے بابائے قوم محمد علی جناح کے وژن کے تحت اسپتال میں مفت علاج کی سہولیات فراہم کی جارہی ہیں۔

کراچی: پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے جناح اسپتال میں نو منزلہ سرجیکل کمپلکس کا افتتاح کردیا۔

500 بستروں اور 18 جدید ترین آپریشن تھیٹروں پر مشتمل سرجیکل کمپلکس میں ساڑھے چار ہزار تک مریضوں کا معائنہ کرنے کے لئے اوپی ڈی بھی موجود ہے۔ جناح اسپتال کے سرجیکل کمپلکس میں تمام آپریشنز اور علاج بالکل مفت ہوگا۔

یہ بھی پڑھیے

ہر10 میں سے 6اہل پاکستانیوں نے انسداد کرونا ویکسین لگوالی

ایس آئی یو ٹی میں پہلے روبوٹک سرجری اینڈ ٹریننگ سینٹر کا افتتاح

افتتاح کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ جب بھی ہم جناح اسپتال آتے ہیں تو کسی نئے منصوبہ کے افتتاح کے لیے آتے ہیں، کراچی کے ہیلتھ کیئر اسٹرکچر میں جناح اسپتال بہترین کردار ادا کررہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جناح اسپتال اس وقت بین الاقوامی معیار کے مطابق چلایا جارہا ہے، آج ہم نے 500 بیڈ پر مشتمل سرجیکل کمپلکس کا افتتاح کیا ہے مجھے فخر ہے کہ اتنا بہترین کام کیا ہے۔

پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین پیپلز پارٹی کا کہنا تھا شہید بے نظیر بھٹو نے 1999 میں پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کو متعارف کروایا تھا، ملک بھر میں ترقی خصوصاً شعبہ صحت کی ترقی کے لیے پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت مثالی کام جاری ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں سندھ پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت بہترین کام کر رہا ہے، ہم اس میں صرف اسلیے کامیاب ہیں کہ ہم زیادہ محنت کم وسائل کے ساتھ کرتے ہیں۔

نئے کمپلکس کی خصوصیات سے متعلق بات چیت کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا اس کمپلکس میں ناصرف مفت علاج فراہم کر رہے ہیں بلکہ کھانا بھی دیا جارہا ہے، ہم نہیں پوچھتے ہیں کہ آپ کا تعلق کہاں سے ہے یا آپ کونسی زبان بولتے ہیں۔

چیئرمین پیپلز پارٹی کا کہنا تھا کہ بابائے قوم محمد علی جناح کے وژن کے تحت اسپتال میں مفت علاج جاری ہے، جناح اسپتال نے ملک بھر میں ایک بہترین مثال قائم کی ہے، پیشنٹ ایڈ فاؤنڈیشن کے کام کی مثال دنیا میں نہیں ملتی ہے۔

افتتاح کے موقع پر چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے ہمراہ وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ، وزیر صحت سندھ عذرا پیچوہو، ایڈمنسٹریٹر کراچی مرتضی وہاب، وقار مہدی بھی موجود تھے۔

متعلقہ تحاریر