حکومت گرائے جانے پر عمران خان کیا کریں گے؟ غریدہ فاروقی

آثارمل رہے ہیں کہ وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد ضرور پیش کی جائے گی

نجی ٹی وی کی اینکر پرسن غریدہ فاروقی نے انڈپینڈنٹ اردو میں لکھے گئے کالم میں کہا ہے کہ پاکستان کی موجودہ سیاسی صورتحال کو دیکھتے ہوئے واضح محسوس ہورہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد پیش ضرور کی جائے گی اگر تحریک عدم اعتماد کامیاب ہوگئی تو  عمران خان کیا کرینگے؟

غریدہ فاروقی نےحکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد  جس کا ابھی کوئی وجود نہیں ہے اس  تحریک کی کامیابی کے  نتیجے میں وزیراعظم عمران خان کی حکومت گرائے جانے کے حوالے سے ایک کالم لکھا ہے جس میں ان کا کہنا ہے کہ پاکستان کی موجودہ سیاسی صورتحال سے  واضح آثارمل رہے ہیں کہ وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد ضرور پیش کی جائے گی۔ قومی اسمبلی میں حزب اختلاف کی جماعتوں کے پاس  وزیراعظم کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کیلئے نمبر گیم بھی تقریباً مکمل ہی سمجھی جا سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

وزیراعظم عمران خان کا روس اور یوکرین کی صورتحال پر اظہار افسوس

عتیقہ اوڈھو کی وزیراعظم عمران خان کی تعریف

انھوں نے بتایا کہ وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب کروانے کے لیے حزب اختلاف کو 172 ووٹ  کا گولڈن نمبر درکار ہے جبکہ اپوزیشن کے پاس مجموعی طورپر  162 ووٹ ہیں۔ یعنی محض 10  ووٹ کی کمی کا سامنا ہے  تاہم  حتمی پارلیمانی نمبرز میں دونوں بینچز کو فی الحال ایک ایک ووٹ کی کمی کا سامنا ہے۔ تحریکِ انصاف کے179 ممبرز میں سے ایک ووٹ کی کمی ہنگو سے ایم این اے خیال زمان اورکزئی کی وفات کی وجہ سے ہے۔ جبکہ اپوزیشن کے 162 میں سے ایک ووٹ کی کمی ایم این اے علی وزیر کی گرفتاری کی وجہ سے ہے۔

غریدہ نے سوال اٹھایا ہے کہ دنیا کے دیگر بڑے رہنماؤں کی طرح اگر وزیر اعظم عمران کان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہوتی ہے تو عمران خان کیا کرینگے؟؟ کیا عمران خان اپنی حکومت گرائے جانے کے بعد خاموشی سے بَنّی گالہ روانہ ہو جائیں، کتابیں پڑھنا اور کتابیں لکھنا شروع کر دیں، کرکٹ کمنٹری کا آغاز کر دیں یا لندن روانہ ہو جائیں ۔۔۔۔؟ یا کیا یہ ممکن ہے کہ حکومت گرائے جانے کے بعد اپوزیشن کے عائد کردہ الزامات کے تحت مقدمات کا آغاز کر دیا جائے اور عمران خان کے گرد گھیرا تنگ ہوجائے اور انھیں جیل بھیج دیا جائے ؟

انھوں نے لکھا کہ ظاہر ہے کہ عدم اعتماد کی تحریک کے کامیاب ہونے کے اگلے ہی روز تو یہ سب کچھ شروع نہیں ہو جائے گا۔ لیکن ایک بات تو طے ہے کہ مَنّتوں مرادوں اور مِنتّوں سے ملی اپنی حکومت کے گرائے جانے کے ساتھ ہی خان چپ کر کے نہیں بیٹھ جائیں گے یا خامشی سے یہ سارا تماشہ نہیں سہیں گے۔۔۔۔ فارغ تو نہیں بیٹھیں گے محشر میں جُنوں میرا۔۔۔۔ کے مصداق خان کی حکمتِ عملی پاکستان کی سیاسی تاریخ کا ایک اور تاریخی لمحہ ہو گا اور اسی لیے عرض کیا کہ بطور طالبِ علم دوسری صورتحال کے ممکنات کاجائزہ لینے اور ان سے سیکھنے کی میری دلچسپی اور تجسُس زیادہ ہے۔

تاحال عمران خان نے اپنے ’پتّے‘ سینے سے لگا کر رکھے ہیں۔ بہرحال اپوزیشن اور حکومت دونوں ہی اگلے چند دنوں میں ایک ایسے کھیل کا آغاز کرنے جا رہی ہیں جو کسی کا بھی ’دا لاسٹ گیمبل‘ یعنی ’آخری جُوُا‘ یا ’دا لاسٹ گیمبل‘ یعنی ’ہارا ہوا جُوّا‘ ثابت ہونے جا رہا ہے۔

متعلقہ تحاریر