خواتین کا عالمی دن: پڑھی لکھی عورت کے ہاتھوں غریب خاتون بنی اذیت کا شکار

اسپتال عملے کے اس انسانیت سوز روہے پر ورثا اور شہریوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوٸے غفلت اور لاپرواہی کے ذمے داران کے خلاف کارواٸی کا مطالبہ کیا ہے۔

کمالیہ کے سرکاری اسپتال میں خاتون کی ڈلیوری نہ کراٸی گٸی تو بے بس لاچار خاتون نے اسپتال کے سامنے بچے کو جنم دے دیا۔ بچے کی پیداٸش کے بعد اسپتال انتظامیہ نااہلی چھپانے کے لیے خاتون اور بچے کو دوبارہ اسپتال لے گٸے۔

کمالیہ کی رہاٸشی صفیہ بی بی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوٸے بتایا کہ گزشتہ شام وہ اپنی بیٹی رابعہ کو ڈلیوری کے لیے تحصیل ہیڈکوارٹر اسپتال لاٸی۔ رات کے ساڑھے گیارہ بجے لیڈی ڈاکٹر عندلیب اور اسٹاف نے اپنا رنگ دکھانا شروع کیا۔

یہ بھی پڑھیے

200 سے زائد جدید سرکاری ایمبولینسز جلد فعال ہوجائیں گی، مرتضیٰ وہاب

رواں سال میڈیکل اور ڈینٹل کالجز میں 5873 نشتیں خالی رہ گئیں، رپورٹ

لیڈی ڈاکٹر نے ماں کے پیٹ میں موجود بچے کی حالت کو تشویشناک قرار دیتے ہوٸے کسی اور اسپتال میں جانے پر زور دیا اور کہا اگر جلدی ڈلیوری نہ کراٸی گٸی تو بچہ مأں کے پیٹ میں ہی مر جاٸے گا۔

صفیہ بی بی اپنی بیٹی رابعہ کو لے کر جیسے ہی اسپتال سے باہر نکلی تو صرف 100 گز کے فاصلے پر اسپتال کے سامنے ہی رابعہ کی حالت بِگڑ گٸی اور بیچاری لاچار خاتون نے سڑک پر ہی بچے کو جنم دے دیا۔

بچے کی پیداٸش کے بعد شور شرابا سن کر اسپتال عملہ رابعہ اور اسکے بچے کو واپس اسپتال لے گٸے۔

اسپتال عملے کے اس انسانیت سوز روہے پر ورثا اور شہریوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوٸے غفلت اور لاپرواہی کے ذمے داران کے خلاف کارواٸی کا مطالبہ کیا ہے۔

محکمہ صحت پنجاب کے اعلیٰ حکام نے اتنے بڑے واقعے کے بعد مکمل خاموشی اختیار کررکھی ہے۔ سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ محکمہ صحت پنجاب کے حکام اپنی غفلت پر پردہ ڈالنے اور اسپتال کے عملے کو بچانے کے لیے خاموشی اختیار کیے بیٹھے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت اور بزدار حکومت ویسے تو صحت کے میدان میں بڑے بڑے دعوے کرتی دکھائی دیتی ہیں ، وزیر صحت پنجاب جو خود ایک خطرناک بیماری میں مبتلا ہیں انہیں اس قسم کے واقعات کیوں دکھائی نہیں دیتے۔ اور ذمے داروں کے خلاف کیوں کارروائی نہیں کی جاتی۔

متعلقہ تحاریر