کراچی کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک، کے سی سی آئی کی وفاقی حکومت پر کڑی تنقید

کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے وفاق سے مطالبہ کیا ہے کہ شہر قائد کے لیے خصوصی پیکیج کا اعلان کیا جائے اور ٹیکنالوجی پارک قائم کیا جائے۔

کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (کے سی سی آئی) کے صدر محمد ادریس نے وفاقی حکومت کی جانب سے کراچی کو مکمل طور پر نظر انداز کرنے پر شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کا سب سے بڑا شہر گیس، بجلی، پانی اور دیگر اہم شہری سہولیات کی عدم دستیابی اور انفرااسٹرکچر کی انتہائی خراب حالت کے باعث بری طرح متاثر ہو رہا ہے جبکہ شہر بھر میں بڑھتی ہوئی لاقانونیت کے باعث کراچی والوں کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔

محمد ادریس نے جاری کردہ ایک بیان میں کہا کہ یہ بات انتہائی تشویشناک ہے کہ شہر کے ہر حصے  سے اسٹریٹ کرائمز بڑی تعداد میں خبریں رپورٹ ہو رہی ہے لیکن وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید نے کبھی بھی کراچی آنے کی زحمت گوارا نہیں کی اور وہ صرف ٹی وی چینلز کے لیے دستیاب ہیں جہاں وہ صرف بلند و بانگ دعوے کرتے نظر آتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

اسٹیٹ بینک کی چھٹی مانیٹری پالیسی کا اعلان، شرح سود 9.75 فیصد برقرار

حکومت نے رمضان کے لیے 8 ارب 28 کروڑ کا ریلیف پیکج منظور کرلیا

انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت کے سوتیلی ماں کے سلوک کی وجہ سے کراچی شہر کا انفرااسٹرکچر اس قدر ابتر ہو چکا ہے کہ باالخصوص صنعتی زونز کی سڑکوں پر جیپ میں بھی جانا محال ہے۔ یہ شہر قومی خزانے میں 65 فیصد سے زائد ریونیو، صوبائی خزانے میں 95 فیصد ریونیو اور برآمدات کی مد میں  54 فیصد حصہ دار ہونے کے باوجود بنیادی سہولیات سے محروم ہے جبکہ کراچی سے منتخب ہونے والے پی ٹی آئی حکومت کے تمام 14 ایم این ایز یہاں کے مکینوں کے مسائل کو حل کرنے پر توجہ نہیں دے رہے۔

صدر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کا نے مزید کہا ہےکہ لارج ٹیکس پیئر آفس (ایل ٹی او) کراچی کے مطابق رواں مالی سال کے صرف 8 ماہ میں ایک کھرب روپے کے ٹیکس جمع کرنے کا سنگ میل عبور کیا لیکن اس شہر کو اس کا 10 فیصد بھی نہیں مل رہا جو وہ اتنے سالوں سے لگاتار ٹیکس دے رہا ہے۔

محمد ادریس کا کہنا ہے کہ محصولات اور برآمدات کے لحاظ سے بہترین کردار ادا کرنے کے باوجود کراچی کی صنعتیں گیس سے محروم ہیں کیونکہ 1100 ایم ایم سی ایف ڈی گیس کی مجموعی طلب میں سے صرف 800 ایم ایم سی ایف ڈی گیس فراہم کی جارہی ہے جو کہ انتہائی ناانصافی ہے باالخصوص ایسی صورتحال میں جب کراچی کے علاوہ ملک کے کسی اور شہر میں گیس کی لوڈشیڈنگ نہیں کی جا رہی۔

وزارت تجارت کی طرف سے ایک سمری پیش کی گئی ہے جس میں کہا گیا کہ آر ایل این جی زیرو ریٹیڈ سیکٹر کی صنعتوں کو 6.5 ڈالر کی شرح سے فراہم کی جائے گی جبکہ پورے پاکستان میں بجلی کے صنعتی صارفین کو 9 ڈالر کی شرح پر آر ایل این جی فراہم کی جائے گی لیکن بدقسمتی سے اس ریلیف کو سوئی نادرن گیس کے علاقوں میں لاگو کیا گیا اور سوئی سدرن گیس کوکوئی ریلیف فراہم نہیں کیا گیا۔آر ایل این جی کے لیے یہ سبسڈی والے نرخ ٹیکسوں سے حاصل ہونے والے ریونیو سے فراہم کیے جا رہے ہیں اور یہ انتہائی تشویشناک بات ہے کہ سب سے زیادہ ریونیو دینے والا شہر یعنی کراچی ہی اس ریلیف سے بدستور محروم ہے۔

انہوں نے کہا کہ کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری صورتحال کی سنگینی کو سمجھتے ہوئے وقتاً فوقتاً تمام وفاقی وزراء کو خطوط لکھتا رہا ہے تاکہ انہیں کے سی سی آئی میں متعدد مسائل پر تبادلہ خیال اور جنگی بنیادوں پر ان کے حل کے لیے لائحہ عمل تیار کرنے کے لیے مدعو کیا جا سکے لیکن بدقسمتی سے ان وفاقی وزراء میں سے کسی کے پاس کراچی کے لیے وقت نہیں جو یتیموں کی طرح تنہا پڑا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کے فور منصوبے کے تحت مختص پانی کی مقدار 650 ایم جی ڈی سے کم کر کے 260 ایم جی ڈی کر دی گئی ہے جس کی وجہ سے کراچی کو درپیش پانی کے بحران کو حل کرنے میں مدد نہیں ملے گی لہٰذا حکومت کے فور منصوبے کے تحت کراچی کو 650 ایم جی ڈی پانی کی فراہمی بحال کرے اور اس منصوبے کو اکتوبر 2023 کی ڈیڈ لائن کے اندر مکمل کیا جائے۔

انھوں نے کہا کہ وفاقی حکومت کا رویہ دیکھ کر ہمیں مایوسی ہوئی جو کراچی کے مسائل کی اصل ذمہ دار ہے۔ اس لیے ہماری وزیر اعظم عمران خان سے اپیل ہے کہ وہ کراچی کے مسائل پر خصوصی توجہ دیں اور تمام وفاقی وزراء کو ہدایت جاری کریں کہ وہ ان مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے میں دلچسپی کا مظاہرہ کریں کیونکہ پہلے ہی بہت دیر ہو چکی ہے اور مزید تاخیر نہ صرف کراچی بلکہ پورے ملک کے لیے نقصان دہ ثابت ہو گی کیونکہ پاکستان کی معاشی ترقی میں کراچی کا بڑا حصہ ہے۔

صدر کے سی سی آئی نے مطالبہ کیا کہ کراچی کو خصوصی پیکیج دیا جائے تاکہ اس کے انفرااسٹرکچر کے مسائل اور دیگر مسائل حل ہوسکیں جبکہ  وفاقی حکومت کو آئی ٹی سیکٹر میں جاری ترقی کی وجہ سے کراچی میں ایک خصوصی ٹیکنالوجی پارک کا اعلان بھی اولین ترجیح پر کرنا چاہیے جس کا بڑے پیمانے پر مطالبہ کیا جا رہا ہے۔کراچی میں مینڈیٹ رکھنے والے دیگر تمام اسٹیک ہولڈرز اور سیاسی جماعتیں بھی وزیراعظم سے کراچی کے مسائل پر توجہ دینے کی درخواست کریں جو ملک کے وسیع تر مفاد میں ہے۔

انہوں نے 30 ستمبر 2021 کو اسلام آباد میں وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین، مشیر برائے تجارت رزاق داؤد اور وزیر توانائی حماد اظہر کے ساتھ ملاقات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہم نے پورٹ قاسم پر 1250 ایکٹر رقبے پر محیط ٹیکسٹائل سٹی کی اراضی کراچی چیمبر کے حوالے کرنے کی درخواست کی لیکن ایسا کرنے کے بجائے یہ زمین وزارت بحری امور کو دے دی گئی اور ہمیں خدشہ ہے کہ یہ غیر متعلقہ لوگوں کو مہنگے داموں بیچ دی جائے گی لہٰذا وزیر اعظم کے وژن کو مدنظر رکھتے ہوئے جس کے مطابق وہ اس بات پر پختہ یقین رکھتے ہیں کہ زمین بیچنا یا کاروبار کرنا حکومت کا کام نہیں ہے ہم ایک بار پھر حکومت سے اپیل کریں گے کہ ٹیکسٹائل سٹی کی زمین کراچی چیمبر کے حوالے کی جائے تاکہ ہم انفرااسٹرکچر کی تعمیر کے ساتھ ساتھ اس بات کو یقینی بنا سکیں کہ یہ زمین حقیقی صنعتکاروں کو فروخت کی جائے۔ہم اپنے طور پر اس زمین کا انفرااسٹرکچر تیار کریں گے اور اس علاقے میں قائم ہونے والی صنعتوں کو تمام سہولیات فراہم کریں گے۔

متعلقہ تحاریر