وزیراعظم کا دورہ روس کسی بلاک میں شمولیت کا عندیہ نہیں تھا، وزارت خارجہ

چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے خارجہ امور کا کہنا ہے عمران خان کا دورہ روس ، یوکرین روس تنازعہ سے قبل طے شدہ تھا۔

وزارت خارجہ کے حکام نے کہا ہے کہ وزیراعظم پاکستان عمران خان کا دورہ روس کسی بلاک میں شمولیت کے لئے نہیں تھا بلکہ پہلے سے طے شدہ تھا۔

قائمہ کمیٹی برائے خارجہ امور کا اجلاس  چیئرمین ملک محمد احسان اللہ ٹوانہ کی صدارت میں ہوا، جس میں وزارت خارجہ کے حکام نے وزیر اعظم عمران خان کےچین اور روس کے دوروں پر بریفنگ دی۔

یہ بھی پڑھیے

وزیراعظم نے تحریک عدم اعتماد کی بجائے شوکت خانم اسپتال کراچی پر توجہ مرکوز کردی

مانک اسکول کی مسماری، سندھ حکومت نے تعلیم کا نظام تباہ کردیا، پی ٹی آئی

قائمہ کمیٹی نے وزارت خارجہ کے حکام سے استفسار کیا کہ وزیراعظم کے روس کے دورے کی سفارش دفتر خارجہ نے کی تھی یا نہیں؟۔جس پر  وزارت کے حکام نےبتایا کہ دورہ روس کی سفارش وزارت خارجہ نے کی تھی اور یہ یوکرین کے واقعے کے متوقع ہونے سے پہلے طے شدہ دورہ تھا۔  وزارت نے کمیٹی کو مزید بتایا کہ روس کا دورہ 23 سال کے وقفے کے بعد ہوا اور یہ دورہ افغانستان کی صورتحال، ریلوے منصوبے اور پاکستان کے لیے گندم کی درآمد کے حوالے سے بہت اہم تھا۔  وزارت نے اس تاثر کی سختی سے تردید کی کہ پاکستان کا دورہ روس کسی بلاک میں شمولیت کے لیے تھا۔  انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم پاکستان بارہا اس بارے میں قوم کو آگاہ کر چکے ہیں۔

کمیٹی کو ملک میں دہشت گرد حملوں کے انسداد کے لئے کی جانے والی کوششوں کے بارے میں بھی بریفنگ دی گئی۔  وزارت خارجہ کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ افغانستان سے امریکی انخلاء کے بعد داعش ابھر کر سامنے آئی ہے اور اسے پاکستان مخالف عناصر کی حمایت حاصل ہے۔

کمیٹی کو بتایا گیا کہ افغان حکومت پاکستان سے قریبی رابطے میں ہے۔  افغانستان نے پاکستان کو بارہا یقین دلایا ہے کہ افغانستان کی سرزمین پاکستان یا کسی بھی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دی جائے گی۔

کمیٹی کو بتایا گیا کہ او آئی سی کی 48ویں کانفرنس  اسلام آباد میں منعقد کی جا رہی ہے۔  جس میں تقریباً 600 وفود کی آمد متوقع ہے۔  کشمیر بھی کانفرنس کے ایجنڈے کا حصہ ہے۔  یہ کانفرنس پاکستان کی تاریخ کا بہت اہم واقعہ ثابت ہوگی۔  کانفرنس کا تعلق پاکستان کی 75ویں سالگرہ سے بھی ہے۔

متعلقہ تحاریر