مائیکروفنانس اکاؤنٹ ہولڈرز کو حکومتی سیکورٹیز میں سرمایہ کاری کی اجازت
اسٹیٹ بینک کی طرف سے حال میں جاری ہونے والے صارفین کی ڈجیٹل آن بورڈنگ کے فریم ورک سے آئی پی ایس اکاؤنٹ کھولنا مزید سادہ اور آسان ہو جائے گا۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے مائیکروفنانس اکاؤنٹ ہولڈرز کو حکومتی سیکورٹیز میں سرمایہ کاری کی اجازت دے دی۔
بینک دولت پاکستان نے عوام کو حکومتی سیکوریٹیز میں سرمایہ کاری کے وسیع تر مواقع کی فراہمی اور اس خصوصی ذریعے کی فنڈنگ کو متنوع بنانے کی غرض سے درج ذیل اقدامات کیے ہیں:
1۔ مائیکروفنانس بینکوں (ایم ایف بیز) کو اپنے صارفین کو انویسٹر پورٹ فولیو آف سیکوریٹیز (آئی پی ایس) اکاؤنٹ کھولنے کی پیشکش کرنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیے
آئی ایم ایف سے مذاکرات مکمل، جمعہ کو جواب متوقع، وزیر خزانہ
ایکنک اجلاس، کراچی سرکلر ریلوے اور تھر کینال پراجیکٹ منظور
2۔ مائیکروفنانس بینکوں کے اکاؤنٹ ہولڈرز کو اجازت دی گئی ہے کہ وہ کسی بھی جدولی بینک کے پاس حکومتی سیکوریٹیز میں سرمایہ کاری کے لیے آئی پی ایس اکاؤنٹ کھول سکتے ہیں۔
سیکوریٹیز میں سرمایہ کاری کے لیے افراد اور خردہ سرمایہ کاروں کے لیے ضروری ہے کہ وہ ان سیکوریٹیز کو رکھنے اور ان کی خریدو فروخت کے لیے آئی پی ایس اکاؤنٹ کھولیں۔ قبل ازیں افراد اور اداروں کو جدولی بینکوں کے پاس صرف پاکستانی روپے میں اکاؤنٹ کھولنے کی اجازت تھی۔ حکومتی سیکوریٹیز میں سرمایہ کاری کے پرکشش ہونے کی اہم وجہ ان کی محفوظ نوعیت اور اچھا منافع ہے، جو عام طور پر بینکوں کی جانب سے بچت اکاؤنٹس پر دیے جانے والے منافع کے مقابلے میں بلند ہوتا ہے۔
نئے اقدامات میں مائیکروفنانس بینکوں کی جانب سے ریگولر اور برانچ لیس بینکاری اکاؤنٹ ہولڈرز دونوں کو دو آپشنز کی اجازت ہوتی ہے۔ پہلے آپشن میں ایم ایف بیز کا اکاؤنٹ ہولڈر اپنے ایم ایف بی کے پاس آئی پی ایس اکاؤنٹ کھول سکتا ہے تاکہ وہ اپنی رقوم کو حکومتی سیکوریٹیز کی خرید و فروخت میں استعمال کر سکے۔
دوسرے آپشن میں ایم ایف بی کے اکاؤنٹ ہولڈرز حکومتی سیکوریٹیز میں سرمایہ کاری کے لیے کسی بھی جدولی بینک میں آئی پی ایس اکاؤنٹس کھول سکتے ہیں۔ دونوں آپشنز کے تحت ایم ایف بیز کے اکاؤنٹ ہولڈرز کو اجازت دی گئی ہے کہ وہ اپنے اکاؤنٹس یا برانچ لیس بینکاری/ والٹ میں دستیاب رقوم کو سرمایہ کاری کے لیے استعمال کریں۔
اسٹیٹ بینک کی طرف سے حال میں جاری ہونے والے صارفین کی ڈجیٹل آن بورڈنگ کے فریم ورک سے آئی پی ایس اکاؤنٹ کھولنا مزید سادہ اور آسان ہو جائے گا۔ اس فریم ورک کے تحت بینکوں اور مائیکرو فنانس بینکوں کو اجازت دی گئی ہے کہ وہ صارفین کی ’اپنے صارف کو پہچانیے‘ (کے وائی سی) سے متعلق معلومات صارف سے اجازت لے کر اور متعلقہ قوانین و ضوابط کی پابندی کرتے ہوئے کسی بھی ایسے ادارے کو دے سکتے ہیں جو اسٹیٹ بینک/ ایس ای سی پی کے دائرہ کار میں آتا ہو۔ ان اقدامات سے حکومتی سیکورٹیز میں سرمایہ کاری مکمل ڈجیٹل انداز میں کرنے کے سسٹمز کی تشکیل کی راہ بھی ہموار ہوگی۔
اسٹیٹ بینک کو یقین ہے کہ ان نئے اقدامات سے بچت کے کلچر کو مزید فروغ ملے گا اور حکومتی سیکورٹیز میں چھوٹی چھوٹی رقوم کی سرمایہ کاری لانے کے لیے زیادہ آسان راستہ کھلے گا۔









