مظاہرین کو بغیر وارننگ گولی مار دی جائے، قازقستان کے صدر کا حکم

ملک میں ہونے والے پرتشدد مظاہرے دہشتگردوں نے باقاعدہ منصوبہ بندی کے ساتھ شروع کیے، ایمرجنسی نافذ کرنے سے صورتحال قابو میں ہے، قاسم جومارٹ۔

قازقستان کے صدر قاسم جومارٹ نے سیکیورٹی فورسز کو حکم دیا ہے کہ پرتشدد مظاہروں کو ختم کرنے کے لیے مظاہرین کو بغیر خبردار کیے مار دیا جائے۔

جمعہ کے روز عوام سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بڑھتے ہوئے ایندھن کی قیمتوں کی وجہ سے شروع ہونے والے احتجاج کی وجہ سے بدامنی ہوگئی ہے، ان مظاہروں کی منصوبہ بندی بہت اعلیٰ تربیت یافتہ دہشتگرد گروہوں نے کی جو کہ ملک کے اندر اور باہر موجود ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ آج ڈی جی خان میں طاقت کا مظاہرہ کرے گی

ایران میں اساتذہ کا ملک گیر احتجاج، 28 صوبوں میں ایمرجنسی نافذ

قازقستان کے سرکاری میڈیا نے جمعہ کو رپورٹ کیا کہ اب تک 18 سیکیورٹی اہلکار اور 26 مسلح مجرم پرتشدد مظاہرین میں ہلاک ہوچکے ہیں۔

وزارت داخلہ کے مطابق اب تک 3800 سے زائد افراد کو گرفتار کیا جاچکا ہے، سرکاری میڈیا نے کہا کہ 100 سے زائد افراد کو ‘دہشتگردانہ کارروائیوں’ کے دوران گرفتار کیا گیا۔

ملک کے سب سے بڑے شہر الماتے میں سڑکوں پر درجنوں لاشیں پڑی تھیں جن پر گولیاں داغی گئی تھیں، یہ بات ایک مقامی صحافی نے بتائی۔

سی این این سے بات کرتے ہوئے صحافی نے بتایا کہ انٹرنیٹ بندش کی وجہ سے اے ٹی ایم مشینز بند پڑی ہیں اور ایک اسلحہ کا اسٹور لوٹا جاچکا ہے۔

قازق صدر کا کہنا ہے کہ الماتے میں صورتحال قابو میں ہے اور ایمرجنسی کے نفاذ سے نتائج برآمد ہورہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ دہشتگرد سرکاری اور نجی املاک کو نقصان پہنچا رہے ہیں اور شہریوں کے خلاف اسلحہ استعمال کر رہے ہیں۔

صدر نے بتایا کہ میں نے قانون نافذ کرنے والے اداروں اور فوج کو حکم دیا ہے کہ ایسے افراد کو بغیر خبردار کیے گولی مار دی جائے۔

انہوں نے ٹویٹ کرتے ہوئے بتایا کہ 20 ہزار مجرم اور دہشتگرد الماتے میں اس ہفتے ہونے والے 6 حملوں میں ملوث تھے، دہشتگردوں سے کوئی بات نہیں ہوگی، ہم انہیں ضرور ماریں گے۔

الماتے کے مرکز میں صدر کی رہائشگاہ اور میئر کے دفتر کے قریب صورتحال حکومت کے قابو میں ہے اور تین بڑے فوجی چیک پوائنٹس قائم کردئیے گئے ہیں، یہ بات مقامی صحافی نے سی این این کو بتائی۔

Facebook Comments Box