مدد چاہتی ہے یہ حوا کی بیٹی ، حکمرانوں کے لیے لمحہ فکریہ

سماجی حلقوں کا کہنا ہے حکمران پولیس کے نظام کو ٹھیک کردیں تو ملک سے جرائم کا خاتمہ دنوں کی بات ہوگی۔

صوبہ سندھ کے ضلع میر پور خاص میں پسند کی شادی کے معاملے پر 13 اور 17 سالہ لڑکوں کو اغواء کرکے مخالفین نے جنسی زیادتی کے بعد برہنہ کرکے گلیوں میں گھمایا ہے، جبکہ صوبہ خیبرپختون خوا حاملہ خاتون نے شوہر کی اولاد نرینہ کی خواہش کو پورا کرنے کے لیے سر میں کیل ٹھکوا لی ہے۔

منگل کو جاری ہونے والی پولیس رپورٹ کے مطابق سندھ کے ضلع میرپور خاص کے نواحی علاقے نوکوٹ ٹاؤن کے قریب ایک گاؤں میں ایک خاتون اور ایک 13 سالہ لڑکی کو اغوا کے بعد برہنہ کرکے گینگ ریپ کیا گیا۔

پولیس کے مطابق 20 سے زیادہ مسلح ملزمان نے ہفتہ کی رات نفیس نگر کے ایک گھر سے دو خواتین کو اغواء کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

دعا منگی اغوا کیس کے مفرور ملزم ذوہیب قریشی کے بیرون ملک فرار کاخدشہ

سکھر میں نامعلوم چوروں کا راج، ایک ہی دن میں کار اور 4 موٹر سائیکلیں چوری

سندھ میں حوا کی بیٹیاں پھر ظلم کا شکار

پاکستان پیپلز پارٹی کے ایم پی اے میر طارق تالپور کے نوٹس لینے کے بعد پولیس نے دونوں خواتین کو بازیاب کرا لیا ہے۔ خاتون اور 13 سالہ لڑکی کا نوکوٹ کے دیہی مرکز سے طبی معائنے کرا لیا گیا ہے، جہاں ڈاکٹر زیب النساء نے دونوں خواتین کے ساتھ جنسی زیادتی کی تصدیق کردی ہے۔

متاثرہ خواتین نے پولیس کو بیان دیتے ہوئے بتایا کہ انہیں اغواء کے بعد تانگاری لے جایا گیا جہاں انہیں کئی گھنٹے تک اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا۔

متاثرہ خواتین نے بتایا کہ ’’ہم دونوں کو برہنہ کرکے گلیوں میں گھمایا گیا اور پھر نامعلوم پر لے جاکر اذیت دینے والوں نے جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔ "

متاثرین خواتین کے لواحقین کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہنا تھا کہ مسلح ملزمان محمد حنیف راجپوت کے گھر توڑ پھوڑ کیا اور بچیوں کو اغواء کرکے لے گئے۔

مظاہرین کا کہنا تھا ملزمان علاقے کے جانے مانے غنڈے ہیں اس لیے پولیس ان پر ہاتھ ڈالنے سے گھبرا رہی ہے۔ ایف آئی آر بھی اس وقت کاٹی گئی ہے جب پی پی پی کے ایم پی اے نے قصبے میں پہنچ کر واقعے کا نوٹس لیا ہے۔

سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) میرپور خاص کیپٹن (ریٹائرڈ) اسد علی چوہدری نے منگل کو نوکوٹ کا دورہ کیا ، انتظامیہ ، گاؤں والوں اور متاثرین سے معلومات اکٹھی کیں۔

ایس ایس پی اسد علی نے بتایا کہ پولیس نے ایف آئی آر میں نامزد 12 مشتبہ افراد کو گرفتار کیا ہے، اور باقی ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مار رہے ہیں۔

دوسری جانب ایم پی اے میر طارق تالپور نے گاؤں کا دورہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی ہدایت پر متاثرین سے ملاقات کر رہے ہیں، جنہوں نے کہا کہ انہوں نے واقعے کا سنجیدگی سے نوٹس لیا ہے۔

ایم پی اے طارق تالپور کا کہنا تھا کہ ابتدائی میڈیکل رپورٹ سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ حراست کے دوران خاتون اور لڑکی دونوں کو کئی گھنٹے تک بے دردی سے گینگ ریپ کا نشانہ بنایا گیا۔

پشاور میں حوا کی بیٹی شوہر کے ظلم کا شکار

دوسرا واقعہ صوبہ خیبر پختون خوا کے دارالحکومت پشاور میں آیا ہے جہاں ایک حاملہ خاتون نے اپنے شوہر کی نرینہ اولاد کی خواہش کو پورا کرنے کے لیے ایک جعلی عامل سے سر میں کیل ٹھکوا لیا۔

خاتون کو چند روز قبل پشاور کے لیڈی ریڈنگ اسپتال منتقل کیا گیا تھا جہاں ڈاکٹروں نے تصدیق کی کہ وہ حاملہ ہے اور اس کے سر پر شدید چوٹ آئی ہے، تاہم ڈاکٹروں نے آپریشن کے بعد خاتون کے سر سے ڈیڑھ انچ کا کیل نکال دیا ہے۔

نیورو سرجن ڈاکٹر حیدر سلیمان نے صحافیوں کو بتایا کہ خاتون کو چند روز قبل ہسپتال لایا گیا تھا، اس کے سر سے خون بہہ رہا تھا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ خاتون نے دعویٰ کیا کہ وہ ایک بیٹا چاہتی ہے کیونکہ اس کے شوہر کو بیٹیاں پسند نہیں ہیں جس کی وجہ سے اس نے بیٹے کی خاطر عامل سے سر میں کیل ٹھکوایا ہے۔

سرجن کی طرف سے شیئر کی گئی تصاویر اور ایکسرے فلم میں دکھا جاسکتا ہے کہ خاتون کی پیشانی کے بالکل اوپر کیل ٹھونکا گیا ہے۔

پشاور ہی کے نواحی علاقے میں گذشتہ ہفتے ایک معمولی جھگڑے کے دوران ایک خاتون کو اس کے سسر نے گلا دبا کر قتل کردیا تھا۔ اطلاع کے مطابق چک نمبر 434 گ ب میں ملزم اکرام کا اپنی بہو اقصیٰ بی بی سے جھگڑا ہوا تھا۔ جھگڑے کے دوران ملزم اکرام نے طیش میں آکر مقتولہ کا گلا رسی سے گھونٹ دیا تھا۔ اقصیٰ موقع پر ہی دم توڑ گئی تھی۔

سماجی حلقوں کی پکار

سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ پورے ملک میں وحشت کا ایک ننگا کھیل کھیلا جارہا ہے ، تہرے قتل کیس کی واحد مدعی ام رباب کو دھمکیاں دی جارہی ہیں، ناظم جوکھیو قتل کیس میں سیاسی اثرورسوخ استعمال کرکے اور پیپلز پارٹی کے ایم پی اےاور ایم این اے کو بچانے کے لیے لواحقین پر صلح کے لیے دباؤ ڈالا جارہا ہے۔ تازہ واقعے میں ضلع میرپور خاص میں دو خواتین کو گینگ ریپ کیا جاتا ہے انہیں برہنہ کرکے گلیوں میں گھمایا جاتا ہے ، پشاور میں بدعقیدے کا شکار ہوکر خاتون اپنے شوہر کی خواہش کو پوری کی خاطر سر میں کیل پیوست کروا لیتی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ انڈیا میں ایک خاتون کو ہراساں کرنے کا واقعہ پیش آتا ہے تو پاکستان کا سارا میڈیا اس کو لے کر شور مچا رہا ہے ہم یہ نہیں کہتے کہ اُس واقعے پر بات نہ کریں ، جو واقعات پاکستان میں پیش آرہے ہپں ان کے پیچھے بھی مردوں کا ہاتھ ہے ، خواتین کے خلاف ہونے والے ظلم اور زیادتی کو ہائی لائٹ کیا جائے جس سے ہمارے حکمرانوں کی آنکھیں کھلیں تاکہ وہ سیاسی مخالفین کا گلا ناپنے کی بجائے معاشرے کے ان ناسوروں کو چن چن کر ختم کرسکیں۔

سماجی حلقوں کا کہنا ہے پولیس کی روایتی بے حسی اور بے شرمی کا پولیس کے اعلیٰ حکام کو نوٹس لینا چاہیے۔ پولیس نظام اصلاحات کی اشد ضرورت ہے۔ جب تک پولیس کے محکمہ میں احتساب کاعمل شروع نہیں ہوگا کیسز کی تفتیش اپنے منطقی انجام کو نہیں پہنچ سکتی ہیں۔ تفتیش کے دوران حقائق کو چھپا لیا جاتا ہے یا پھر حقائق کو مسخ کرکے پیش کیا جاتا ہے۔ مظلوم پر صلح کے لیے دباؤ ڈالا جاتا ہے نا ماننے کی صورت میں مقدمات بنانے کی دھمکیاں دی جاتی ہیں۔

متعلقہ تحاریر