کورونا وائرس: پاکستان میں پانچ لہروں کے بعد مزید بڑی لہر کے امکانات کم ہوگئے

ڈاکٹر فیصل سلطان کا کہنا ہے پاکستان میں کورونا وائرس کے خلاف ابھی تک ہرڈ امیونٹی یا پاپولیشن لیول قوت مدافعت حاصل نہیں ہوئی اس لئے ہمیں احتیاطی تدابیر جاری رکھنا ہوں گی۔

نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کے حکام کا کہنا ہے کہ ملک میں کورونا وائرس کی پانچ بڑی لہروں کے بعد مزید کسی بڑی لہر کے آنے کے امکانات بہت کم ہیں۔کرونا وائرس کی حالیہ لہر کی شدت میں بھی کافی کمی آگئی ہے۔

وزیر اعظم کے معاون خصوصی صحت ڈاکٹر فیصل سلطان کا کہنا تھا کہ پانچ بڑی لہروں کے بعد ملک میں کورونا وائرس کی مزید بڑی لہر آنے کے امکانات بہت کم ہیں،اسی لئے حکومت نے ملک بھر سے کورونا وائرس کے سلسلے میں عائد بہت سی پابندیاں ہٹالی ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

200 سے زائد جدید سرکاری ایمبولینسز جلد فعال ہوجائیں گی، مرتضیٰ وہاب

رواں سال میڈیکل اور ڈینٹل کالجز میں 5873 نشتیں خالی رہ گئیں، رپورٹ

ان کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس کے کسی نئے طاقتور ویرینٹ کے امکانات بہت حد تک کم ہوچکے ہیں لیکن دنیا سے کورونا وائرس ختم نہیں ہوا، اس کی چھوٹی چھوٹی لہریں سامنے آتی رہیں گی۔

فیصل سلطان کا کہنا تھاکہ جن افراد نے اب تک کورونا ویکسین نہیں لگوائی اور وہ کورونا وائرس کا شکار ہونے سے محفوظ رہے، وہ اس بیماری کا شکار ہو سکتے ہیں، اس لیے انہیں احتیاط کرتے ہوئے کورونا ویکسین کی ڈوز لگوا لینی چاہیے۔

نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کے سربراہ کو کہنا تھا کہ پاکستان میں کورونا وائرس کے خلاف ابھی تک ہرڈ امیونٹی یا پاپولیشن لیول قوت مدافعت حاصل نہیں ہوئی اس لئے ہمیں احتیاطی تدابیر جاری رکھنا ہوں گی۔

متعلقہ تحاریر