لاہور میں تہرے قتل کا معاملہ، مقتول کا بھائی ملزم محمد سلیم گرفتار

لاہور پولیس کا کہنا ہے کہ سفاک ملزمان نے ایڈووکیٹ امانت علی ، ان کی اہلیہ کو ہاتھ باندھ کر قتل کیا جبکہ بچی کو گلا دبا کر قتل کیا۔

لاہور کے چوہنگ میں تہرے قتل کی واردات معاملہ ، پولیس نے مقتول وکیل امانت علی ، اس کی اہلیہ اور بچی کے قتل کے شبے میں ایڈووکیٹ کے بھائی کو ملزم سلیم کو گرفتار کرلیا ہے۔ ایس ایس پی انویسٹی گیشن نے کہا تھا کہ جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کرکے تفتیش شروع کردی ہے جبکہ وزیراعلیٰ پنجاب نے واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے سی سی پی او سے رپورٹ طلب کی تھی۔

لاہور پولیس کی ابتدائی تفتیش کے مطابق ایڈووکیٹ امانت علی  اور انکی  فیملی کے قتل کے شبے میں مقتول کے بھائی ملزم محمد سلیم کو گرفتار کرلیا ہے۔

تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ مقتول امانت علی کا بھائی قاتل نکلا ہے۔ ملزم سلیم دو نامعلوم افراد کیساتھ صبح 8 بجے گھر آیا تھا ، ملزم اپنے ساتھ مٹھائی بھی لایا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

نیب کی کارروائی، سابق اینٹی کرپشن افسر کے گھر سے 350 تولے سونا برآمد

مردان میں سنگدل ماں نے 3ماہ کے لخت جگر کو ذبح کردیا

تفتیش کے مطابق ملزم سلیم اور دیگر ملزمان نے بھائی اور بھابھی کے ہاتھ باندھے اور تیز دھار آلے سے قتل کردیا۔ واردات کے بعد تینوں ملزمان فرار ہو گئے۔

ابتدائی تحقیقات کے مطابق مقتول امانت علی اور ملزم سلیم کے درمیان جائیداد کا تنازعہ چل رہا تھا جس کی خلش مٹانے کے لیے ملزم نے اپنے ساتھیوں سے مل کر قتل کی واردات سرانجام دی۔

پولیس افسران کا کہنا ہے کہ ملزم سے مزید تفتیش جاری ہے جبکہ فرار ہونے دیگر ملزمان کی تلاش کے پولیس پارٹی تشکیل دے دی گئی ہے۔

واضح رہے کہ آج صبح لاہور میں قتل کی لرزہ خیز واردات ہوئی تھی۔ ایڈووکیٹ امانت چھینہ ان کی اہلیہ اور کمسن بیٹی کو گھر میں گھس کر قتل کر دیا گیا۔ ایس ایس پی انویسٹیگیشن عمران کشور کا کہنا تھا کہ پولیس نے موقع سے شواہد اکھٹے کرلیے ہیں مزید تحقیقات کی جارہی ہیں۔

لاہور کے علاقے چوہنگ میں قتل کی دل دہلا دینے والی واردات صبح 8 بجے بھی ہوئی۔ پولیس کے مطابق مقتولین کی شناخت امانت علی چھینہ ، شبانہ بی بی اور ازل کے نام سے ہوئی تھی۔ مقتول امانت علی پیشے کے اعتبار سے ایڈووکیٹ تھا۔

چیئرمین پنجاب بار کونسل سید جعفر طیار بخاری نے امانت علی چھینہ ایڈووکیٹ کے بہیمانہ قتل کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے اور جبکہ آج عدالتوں کے بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے۔

Triple murder in Lahore

پنجاب بار کونسل نے وکلاء کے خلاف دہشت گردی کی کارروائیوں کی سختی سے مذمت کی اور تہرے قتل کی ایف آئی آر میں دہشتگردی کی دفعات لگانے کی سفارش کی ہے۔

پولیس کی ابتدائی تحقیقات کے مطابق مقتولین کو گراونڈ فلور کے واش روم میں تیز دھار آلے سے قتل کیا گیا۔ قتل کے وقت مقتول کے والدہ کے ہاتھ پاؤں باندھ دئیے گئے تھے، آئی جی پنجاب نے ملزمان کو ٹریس کر کے جلد از جلد گرفتار کرنے کے احکامات جاری کردیئے۔

دوسری جانب وزیر اعلیٰ پنجاب نے واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے پولیس حکام سے رپورٹ طلب کر لی۔ ذرائع کے مطابق ان کی دیرینہ دشمنی کے باعث یہ قتل ہوا جبکہ قتل کے باعث پورے علاقے میں خوف کی فضا قائم رہی۔

تازہ ترین اطلاعات کے مطابق پولیس نے تہرے قتل کے شبے میں امانت علی چھینہ کے بھائی کو گرفتار کرلیا ہے۔

متعلقہ تحاریر