سندھ کے حکمران عوام کو نوچ نوچ کر کھا رہے ہیں، ڈاکٹر فہمیدہ مرزا

وفاقی وزیر برائے بین الصوبائی رابطہ کا کہنا تھا دوہزار اٹھارہ انتخابات میں سندھ کا سودا کیا گیا، جو لوگ شہید بی بی کی زندگی میں نہیں جیتے وہ بھی جیتے۔

وفاقی وزیر برائے بین الصوبائی رابطہ ڈاکٹر فہمیدہ مرزا کا کہنا ہے کہ دوہزار اٹھارہ میں سندھ میں ایک سلیکٹیڈ حکومت لائی گئی ۔ سندھ کے حکمران چودہ سال سے سندھ کی غریب عوام کو نوچ نوچ کر کھا گئے ہیں۔

ان خیالات کا اظہار ڈاکٹر فہمیدہ مرزا نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ میں وفاقی وزیر ہوں میرا زمین پر قبضے کی ایف آئی آر تک نہیں لی گئی، نوابشاہ کی بھنڈ برادری کے پانچ گھروں کو تباہ کردیا گیا، مقدمہ درج کروانے کے لئے تین دن تک لاشیں رکھ کر دھرنا دیا گیا، انکا بس ایک ہی نعرہ ہے زمین کھپے اور زمین کھپے۔

یہ بھی پڑھیے

موجودہ سیاسی صورتحال میں فون کال اہمیت اختیار کرگئی

سینیٹر دنیش کمار کی بینک اکاؤنٹ کھلوانے کے لیے آہ و زاریاں

ڈاکٹر فہمیدہ مرزا کا کہنا تھا کہ چند روز قبل یہاں ہر ضلع سے لوگ اکٹھے کیے گئے، ریلی میں تمام اضلاع کے لوگ آئے بس بدین والے نہیں گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ انکی گھبراہٹ کا یہ عالم تھا کہ ایک سیٹ کی خاطر یہاں سندھ بھر سے لوگ اکٹھے کیے گئے، فہمیدہ مرزا کسی سیٹ اور عہدے کی پروا نہی کرتی۔

وفاقی وزیر برائے بین الصوبائی رابطہ کا کہنا تھا دوہزار اٹھارہ انتخابات میں سندھ کا سودا کیا گیا، جو لوگ شہید بی بی کی زندگی میں نہیں جیتے وہ بھی جیتے۔ ڈاکٹر ذوالفقار مرزا سندھ کی عوام کے دلوں پر راج کرتے ہیں، فنکشنل لیگ کی سیٹ دھوکے سے انہوں نے حاصل کی، میری ایم این اے کی سیٹ پر حاصل کرنے کی کوشش کی، سلیکٹیڈ نے مظلوم اور غریب عوام کو جرائم پیشہ افراد کے سامنے پہینک دیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ یہ پہلے جانیں لیتے ہیں پہر قیمتیں لگاتےہیں، یہ جہاں سے گزرتے ہیں کہتےیہ زمین کھپے، میں قومی اسمبلی کی انسانی حقوق کمیٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو سے مخاطب ہوں، سندھ میں قتل ہونے والے صحافیوں, خواتین, اور سماجی ورکرز کے قتل پر بات کریں۔

متعلقہ تحاریر