قصور: پولیس کے مبینہ تشدد سے اسکول ٹیچر جاں بحق

ورثاء نے الزام نے لگایا ہے کہ پولیس نے شاہد اقبال کو 20 روز سے گرفتار کررکھا تھا گذشتہ رات تشدد کے بعد وہ جاں بحق ہو گیا۔

قصور: تھانہ راجہ جنگ پولیس کے مبینہ تشدد سے قتل کے الزام میں گرفتار ملزم اسکول ٹیچر شاہد اقبال جاں بحق ہوگیا۔

تفصیلات کے مطابق اسکول ٹیچر شاہد اقبال کا پولیس نے 20 روز قبل قتل کے الزام میں گرفتار کیا تھا جو گذشتہ روز پولیس کے مبینہ تشدد کی تاب نہ لاتے ہوئے انتقال کرگیا ۔

ورثاء نے الزام لگایا ہے کہ گذشتہ رات پولیس نے ماسٹر شاہد اقبال پر بہیمانہ تشدد کیا تھا جس کی وجہ سے اس کی حالت خراب ہو گئی تھی، اور اس کا انتقال ہو گیا۔

یہ بھی پڑھیے

قصور پتوکی روڈ پر کار سواروں کی فائرنگ، ایڈووکیٹ اقبال قتل

قصور پولیس کی کارروائی ، دو نوسرباز گرفتار

ورثاء نے یہ بھی الزام لگایا ہے کہ رات گئے تھانے سے چیخ و پکار کی آوازیں سنائی دیتی رہیں ، پولیس تھانہ راجہ جنگ نے تھانہ کے گیٹ بند کر دیئے تھے۔

دوسری جانب پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم شاہد اقبال قتل کے مقدمہ میں زیر تفتیش تھا گزشتہ رات ھارٹ اٹیک ھوا جس کے بعد اسے اسپتال منتقل کیا گیا ، تاہم ملزم اسپتال پہنچنے سے قبل دم توڑ گیا تھا۔

میڈیا کے سوال پر ایس ایچ او یاسر کا کہنا تھا کہ ملزم کی روزنامچہ میں گرفتاری درج تھی۔

ورثاء نے اسکول ٹیچر شاہد اقبال کے مبینہ قتل پر احتجاج کرتے ہوئے پولیس کے اعلیٰ حکام سے انصاف کی اپیل کی ہے۔

ادھر ڈی پی او قصور نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے تین رکنی کمیٹی تشکیل دے دی جو تین دن میں رپورٹ پیش کرے گی۔

ڈی پی او قصور کا کہنا ہے کہ تفتیش مکمل ہونے کے بعد تمام حقائق میڈیا کے سامنے رکھے جائیں گے اور اگر اس معاملے میں پولیس ملوث پائی گئی تو سخت ایکشن لیا جائے گا۔ کوئی بھی شخص قانون سے بالا نہیں ہے۔ قانون سب کے لیے برابر ہے۔

متعلقہ تحاریر