میلبورن میں خنجر کے بہیمانہ وار سے پاکستانی طالب علم شدید زخمی

سماجی کارکن اور بیرسٹر عنبرین قریشی نے زخمی حسن احمد کے حوالے سے خبر دیتے ہوئے اس کی صحت یابی کی درخواست کی ہے۔

میلبورن میں خنجر کے دو مختلف حملوں میں دو افراد ہلاک جبکہ ایک پاکستانی طالب علم اور اوبر ڈرائیور حسن احمد شدید زخمی ہو گیا ہے جسے طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کردیا ہے۔

میلورن پولیس کا کہنا ہے کہ ہفتے کے آخری روز میلبورن شہر کے مرکزی حصہ میں چھریوں کے دو الگ الگ حملوں میں ایک نوجوان سمیت دو افراد ہلاک ہو گئے ہیں اور ایک اوبر ڈرائیور  شدید زخمی ہوگیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

قصور: پولیس کے مبینہ تشدد سے اسکول ٹیچر جاں بحق

قصور پتوکی روڈ پر کار سواروں کی فائرنگ، ایڈووکیٹ اقبال قتل

میلورن پولیس دونوں واقعات کی الگ الگ تفتیش کررہی ہے۔ ایک واقعہ کوبرگ نارتھ اور دوسرا ڈاک لینڈز میں تقریباً ایک گھنٹے کے فرق سے پیش آیا۔

دوسری جانب وکٹوریہ پولیس کے ترجمان کا کہنا ہے پہلا واقعہ صبح 2.30 بجے کوبرگ نارتھ میں پیش آیا، جبکہ  الزبتھ اسٹریٹ میں ایک 16 سالہ لڑکے کو چاقو سے نشانہ بنایا گیا۔ 16 سالہ نوجوان نوجوان موقع پر ہی دم توڑ گیا تھا۔

پولیس کے مطابق تقریبا ایک گھنٹے کے فرق سے صبح 3.20 پر ڈاک لینڈز میں حملے کی اطلاعات ملی جس میں خجر کے وار سے دو افراد شدید زخمی ہو گئے ، دونوں افراد کو فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا تاہم تھوڑی دیر بعد ایک شخص زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا۔

بیرسٹر عنبرین قریشی نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر زخمی اوبر ڈرائیور اور پاکستانی طالب علم حسن احمد کی تصویر شیئر کرتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ” ایک پاکستانی طالب علم حسن احمد جوکہ ایک اوبر ڈرائیور بھی کو رائل میلبورن اسپتال میں تشویشناک حالت داخل کرایا گیا ہے۔ 12/3/22 کی صبح 1 بجے فٹزروئے اسٹریٹ برنسوک میں مسافروں نے ان کی پیٹھ میں 7 بار خنجر سے وار کیا ۔ اس کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کریں۔”

دوسری جانب پاکستان قونصلیٹ جنرل نے ڈرائیور کی شناخت حسن احمد کے نام سے کی اور کہا کہ اس کی حالت خطرے باہر ہے۔

پاکستانی قونصلیٹ جنرل کا کہنا ہے کہ ہم حسن احمد کے رشتے داروں اور دوستوں کے ساتھ رابطے میں ہیں اور ہر طرح کی ممکن مدد فراہم کررہے ہیں۔

متعلقہ تحاریر