مری سانحہ ، عدالت کا چیئرمین این ڈی ایم اے کو بڑا حکم

اسلام آباد ہائی کورٹ نے مری سانحے کے ذمہ داروں کا تعین کرکے تحقیقاتی رپورٹ 21 جنوری کو عدالت کے روبرو پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔

چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ اطہر من اللہ نے سانحہ مری کے تناظر میں ہونے والی سماعت پر چیئرمین این ڈی ایم اے سے 21 جنوری تک تحقیقاتی رپورٹ طلب کرلی ہے۔ عدالت نے حکم دیا کہ وزیراعظم مری سانحے کے حوالےسے اجلاس طلب کریں اور آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے حکمت عملی ترتیب دیں۔

سانحہ مری کی تحقیقات کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ (آئی ایچ سی) میں دائر درخواست پر چیف جسٹس اطہر من اللہ نے چیئرمین نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹھی (این ڈی ایم اے) کو عدالت میں آج طلب کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

اپوزیشن کے تحریک عدم اعتماد کا توڑ، حکومت منی بجٹ پاس کرانے کےلیے پُرعزم

پی ٹی آئی میں مخصوص لابی کو آگے لایا جارہا ہے، عامر لیاقت حسین

سماعت کے دوران درخواست گزار حماد عباسی کے وکیل دانش اشراق عباسی نے موقف اختیار کیا کہ انتظامیہ نے سیاحوں کو روکا اور نہ ہی برفانی طوفان کے خطرے سے آگاہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم ، وزیر داخلہ اور پولیس حکام نے اطلاع کے باوجود کوئی ایکشن نہیں لیا۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے کہ کیا این ڈی ایم اے نے اس حوالے سے کبھی میٹنگ کی؟ اس کا باقاعدہ انتظامی منصوبہ ہونا چاہیے تھا۔ کیا نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ نے کبھی ملاقات کی ہے؟ کیا کبھی صوبائی اداروں کے اجلاس ہوئے ہیں؟ ممبر این ڈی ایم اے نے بتایا کہ ایک میٹنگ 21 فروری 2013 کو ہوئی تھی دوسری میٹنگ 28 مارچ 2018 کو ہوئی۔

عدالت نے کہا کہ کیا اپوزیشن کے کسی رہنما نے پٹیشن کمیشن کا اجلاس بلایا؟ جس پر رکن این ڈی ایم اے نے کہا کہ ہمیں کسی اپوزیشن لیڈر نے اجلاس بلانے کا نہیں کہا۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے کہ اس سے زیادہ طاقتور ادارہ ہو سکتا ہے۔ ایک بار ڈائریکٹر جنرل نے حکومت کو لکھا کہ اگر کل کوئی آفت آتی ہے تو ہم ذمہ دار ہوں گے۔ کیا آپ کے پاس کوئی قومی منصوبہ ہے؟

چیف جسٹس نے این ڈی ایم اے کے نمائندے سے سوال کرتے ہوئے کہا کہ اتنا مضبوط قانون ہے کہ ہر ضلع کے ذمہ داروں پر بھی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ اس باڈی کی میٹنگز کروانا اور قانون کو نافذ کرنا آپ کی ذمہ داری ہے۔

عدالت نے حکم دیا کہ چیئرمین این ڈی ایم اے مری سانحے کے ذمہ داروں کا تعین کرکے تحقیقاتی رپورٹ 21 جنوری کو عدالت کے روبرو پیش کریں۔

متعلقہ تحاریر