پیٹرول پرائس پر ٹیکس کے بجائے لیوی میں اضافہ، مسئلے کا حل کیا؟
پیٹرول کا نرخ (148.83 روپے فی لٹر) ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔
ملک کا تقریبا ہر شہری ہی مہنگائی سے پریشان ہے امیر بھی رورہا ہے تو غریب کی تو بات ہی کیا ، حکومت کہتی ہے کہ عالمی سطح پر قیمتوں میں اضافہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر مجبور کرتی ہی ہے۔
پی ٹی آئی کی حکومت نے گذشتہ روز پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافے کا اعلان کیا ہے، جس کے بعد پاکستان میں پیٹرول کا نرخ (148.83 روپے فی لٹر) ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔
یہ بھی پڑھیے
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 3.01 سے 3.33 روپے اضافے کا نوٹی فکیشن جاری
پاکستانی معیشت نسبتاً پائیدار بحالی کی جانب گامزن ہے،اقوام متحدہ
حکومت نے سیلز ٹیکس میں کمی کی تاہم پیٹرولیم لیوی میں کوئی تبدیلی نہیں کی پندرہ روز قبل سیلز ٹیکس تین روپے ترپن روپے سے کم کرکے ایک روپیہ سولہ پیسے کردیا جبکہ پیٹرولیم لیوی 17.62 روپے فی لیٹر برقرار ہے ۔ فی لیٹر پیٹرول پر حکومت کی جانب سے ڈیوٹی، مارجن اور لیویز کی مد میں 31اعشاریہ57 روپے مقرر ہیں۔
پیٹرول کی ایکس ریفائنری قیمت 116اعشاریہ26 روپے فی لیٹر ہے لیکن عام لوگوں کے لیے قیمت فروخت 147اعشاریہ83 روپے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔ فی لیٹر پیٹرول پر ڈیلرز کا مارجن 4اعشاریہ90 روپے ہے جبکہ اس پر ڈسٹری بیوٹر مارجن 3اعشاریہ68 روپے ہے۔ پیٹرول پر لیوی 17اعشاریہ62 روپے اور سیلز ٹیکس 1اعشاریہ16 روپے فی لیٹر ہے۔









