ملک بھر کے قلیوں کا دیرینہ مطالبہ منظور، سارا معاوضہ انہیں ملے گا
قلیوں کا نظام اور ان سے ماہانہ رقم کی وصولی کا سلسلہ تقریباً 160 برس قبل برصغیر میں ریل نیٹ ورک کے قیام سے شروع ہوا تھا جس کا اب خاتمہ ہوگیا ہے۔
ملک بھر میں ریلوے اسٹیشنوں پر محنت مشقت کرکے اپنا اور اہل خانہ کا پیٹ پالنے والے قلیوں کے لئے خوشخبری ہے کہ اب ان سے ٹھیکے کی مد میں کوئی رقم وصول نہیں کی جائے گی۔
وفاقی وزیر ریلوے اعظم سواتی نے ایک تقریب سے خطاب میں اعلان کیاکہ ملک بھر کے ریلوے اسٹیشنوں سے قلیوں کا ٹھیکہ سسٹم ختم کیا جارہا ہے۔
ان کا کہنا تھاکہ یہ قلیوں کی آزادی کا دن ہے آج سے قلی سے پیسے نہیں لیں گے اوراس حوالے سے قلیوں کا کوئی ٹھیکہ نہیں ہوگا ، ریلوے ان سے ٹھیکہ یا کسی اور مد میں کوئی پیسے نہیں لے گا، جس اسٹیشن سے جو قلی جو پیسہ کمائے گا وہ سارا پیسہ گھر لے جائے گا۔ ملک میں جاگیردارانہ نظام کے ساتھ اب ٹھیکے داری نظام کا خاتمہ کرنا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
معیشت پر اپوزیشن کی بےجا تنقید پر وزیر خزانہ کا کرارا جواب
آٹو کمپنیز نے ایکسائز ڈیوٹی میں اضافہ صارفین کو منتقل کردیا
وفاقی وزیر نے کہا کہ کراچی کی ترقی کے لیے وفاق ٹرانسفارمیشن پلان پر کام کررہا ہے جبکہ کراچی سرکلر ریلوے پر کام کو تیز کیا جائے گا، ریلوے کی اراضی سے تجاوزات کا خاتمہ بھی ہماری ترجیحات میں شامل ہے۔ ہم ملک کے تمام اسٹیشنوں کو جدید اور خوبصورت بنائیں گے۔
اعظم سواتی نے کہا کہ کراچی کے کینٹ اسٹیشن پر سیلانی ویلفیئر کے تعاون سے آر او پلانٹ لگایا گیا ہے جس سے مسافروں کو پینے کا صاف پانی ملے گا۔ آر او پلانٹ سے یومیہ دو کروڑ گلاس پانی فراہم ہوگا۔
قلیوں سے کتنا معاوضہ لیا جاتا تھا۔؟
ایک رپورٹ کے مطابق 2016 میں قلیوں کے لئے سالانہ 65 لاکھ روپے کا ٹھیکہ کھلی نیلامی کے ذریعے دیا گیا۔ جس کے تحت ٹھیکے دار کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ اسٹیشن پر آنے والے مسافروں کا سامان اٹھوانے کے لیے قلی فراہم کرے اور اس کے لیے ٹھیکے دار قلی سے ماہانہ 750 روپے اور یومیہ آمدنی کا بھی 30 فیصد وصول کرتا تھا۔
قلیوں کا نظام اور ان سے ماہانہ رقم کی وصولی کا سلسلہ تقریباً 160 برس قبل برصغیر میں ریل نیٹ ورک کے قیام سے شروع ہوا تھا جس کا اب خاتمہ ہوگیا ہے۔









