مسکان خان کے جعلی ٹوئٹر اکاؤنٹس پاکستان سے چل رہے ہیں، بھارتی میڈیا کا الزام
بھارتی میڈیا کے مطابق مسکان کے ایک جعلی سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے طالبان کا شکریہ ادا کیا گیا، زیادہ تر اکاؤنٹس نے بعد میں لوکیشن تبدیل کرلی۔

بھارت کے ایک ڈیجیٹل نیوز پلیٹ فارم نیوز 18 نے خبر دی ہے کہ بھارتی ریاست کرناٹک میں حجاب کے معاملے پر شروع ہونے والے تنازع کو پاکستان نے بڑھاوا دیا۔
One of these fake Twitter accounts in the name of #MuskanKhan has thanked #Taliban for their ‘support’. The fake accounts are using popular hashtags on the #HijabRow. #KarnatakaHijabRowhttps://t.co/CQUt9ViHsT pic.twitter.com/so5wGlwdwC
— News18.com (@news18dotcom) February 17, 2022
نیوز 18 کے مطابق 9 فروری سے اب تک مسکان خان کے نام سے 100 سے زائد ٹوئٹر اکاؤنٹس بنائے جاچکے ہیں۔
بھارتی میڈیا نے کہا کہ مسکان خان کے ایک جعلی اکاؤنٹ کے 5 ہزار فالوورز تھے جس کی لوکیشن ٹریس کی گئی تو وہ پاکستان سے استعمال کیا جارہا تھا۔
بعد ازاں اس اکاؤنٹ کی لوکیشن تبدیل کر کے کرناٹک کردی گئی۔
یہ بھی پڑھیے
معروف امریکی سپر ماڈل بیلا حدید بھی حجاب کے حق میں بول پڑیں
کرناٹک کی طالبات نے یونیفارم کے ہم رنگ حجاب پہننے کی اجازت مانگ لی
نیوز 18 کی خبر میں درج ہے کہ مسکان کے نام پر بننے والے ایک اکاؤنٹ سے 11 فروری کو طالبان کا شکریہ ادا کیا گیا۔
یہ جعلی اکاؤنٹس حجاب تنازع پر مقبول ہیش ٹیگ استعمال کر رہے ہیں اور زیادہ تر ٹویٹرس پاکستان سے کی جارہی ہیں۔
مسکان کے نام سے ایک ٹوئٹر اکاؤنٹ دسمبر 2019 سے موجود تھا جس کے 37 ہزار فالوورز تھے لیکن حجاب تنازع شروع ہونے کے بعد اس اکاؤنٹ سے تمام ٹویٹس ڈیلیٹ کردی گئیں۔
نیوز 18 نے دعویٰ کیا کہ حساس اداروں کے ذرائع سے معلوم ہوا کہ پاکستان بھارت کا امن و سکون تباہ کرنا چاہتا ہے کیونکہ 2019 میں کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم ہونے کے بعد سے آئی ایس آئی بیک فٹ پر ہے۔
بھارتی انٹیلیجنس ذرائع نے کہا کہ ہم اس بات کی تحقیقات کر رہے ہیں کہ کیا حجاب تنازع کو ہوا دینے کے لیے بیرونی طور پر فنڈنگ کی گئی ہے یا نہیں۔









